ہومتازہ ترینچین کی معتدل نرم مالیاتی پالیسی کے اثرات برقرار

چین کی معتدل نرم مالیاتی پالیسی کے اثرات برقرار

بیجنگ (شِنہوا) پیپلز بینک آف چائنہ نے کہا ہے کہ چین کی معتدل نرم مالیاتی پالیسی کے اثرات پہلی سہ ماہی میں بھی ظاہر ہوتے رہے جہاں مالیاتی اشاریے مناسب رفتار سے بڑھے جبکہ سماجی مالیاتی حالات سازگار رہے۔

رپورٹ کے مطابق مارچ کے اختتام تک ٹیکنالوجی، ماحول دوست ترقی، جامع مالیاتی خدمات، بزرگوں کی دیکھ بھال اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں کو دیئے گئے قرضوں میں 2 ہندسوں کی شرح سے اضافہ برقرار رہا۔

پہلی سہ ماہی کے دوران مرکزی بینک نے درمیانی اور طویل مدتی فنڈز کی مد میں تقریباً 20 کھرب یوآن (تقریباً 292.11 ارب امریکی ڈالر) کی خالص سرمایہ کاری کی جس سے مارکیٹ میں وافر لیکویڈیٹی برقرار رہی۔

مرکزی بینک نے ساختی مالیاتی پالیسی کی سکیموں کو بہتر بنایا اور قرضوں کے ڈھانچے کو مزید موثر بنایا۔ مارچ کے اختتام تک سائنس و ٹیکنالوجی سے وابستہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے بقایا قرضوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 20.9 فیصد اضافہ ہوا جبکہ نجی معیشت، زرعی شعبے اور خدماتی کھپت کے اہم شعبوں کے قرضوں میں بالترتیب 5.4 فیصد، 6.7 فیصد اور 5.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مرکزی بینک نے کہا کہ آئندہ بھی معتدل نرم مالیاتی پالیسی جاری رکھی جائے گی، مختلف مالیاتی پالیسی پروگراموں کو لچکدار انداز میں استعمال کیا جائے گا، لیکویڈیٹی کو وافر رکھا جائے گا اور سماجی مالیاتی حالات نسبتاً نرم رکھے جائیں گے تاکہ مالیاتی اشاریوں میں مناسب اضافہ اور قرضوں کی متوازن فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں