چین کے جنوب مغربی صوبہ یوننان میں واقع ہونگ حہ ہانی چاول کی سیڑھی دار کھیتیوں میں ہزاروں سال پرانی زرعی تہذیب نے لی ژو رقص کو پروان چڑھایا ہے۔ لی ژو رقص قومی سطح کے غیر مادی ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔
اس روایت کے نوجوان وارثوں میں سال 1995 کے بعد پیدا ہونے والی ہانی نسل کی یانگ یونی بھی شامل ہیں جو اس قدیم روایت میں نئی جان ڈال رہی ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): یانگ یونی، بانی، یونی کلچرل اینڈ آرٹ انہیریٹنس سینٹر
"میرا مقصد ہمیشہ یہ رہا ہے کہ پہاڑی علاقوں کی ثقافت اور وہاں کے بچوں کو ایک وسیع دنیا سے روشناس کراؤں۔”
سال 2016 میں جب یانگ یونی کی عمر 19 برس تھی انہوں نے اپنے آبائی علاقے میں ’’لی ژو رقص‘‘ کے تحفظ کے لئے ایک ثقافتی مرکز قائم کیا اور اپنی موسمِ سرما اور گرمیوں کی تعطیلات اس روایت کو برقرار رکھنے میں صرف کیں۔
گزشتہ برسوں کے دوران انہوں نے 3600 سے زائد افراد کو تربیت دی اور اس رقص کو سکولوں، دیہات اور عوامی مقامات تک پہنچایا۔ یوں یہ ثقافتی ورثہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن گیا۔
یانگ صرف ماضی کو محفوظ نہیں کر رہیں بلکہ اسے ایک نئے انداز میں دوبارہ تخلیق بھی کر رہی ہیں۔
روایتی حرکات کو پاپ میوزک، الیکٹرانک بیٹس اور اسٹریٹ ڈانس سے ہم آہنگ کر کے وہ ’’لی ژو رقص‘‘ کو ایک ایسا فن بنا رہی ہیں جو زیادہ متحرک، جدید اور وسیع پیمانے پر پسند کیا جانے والا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): یانگ یونی، بانی، یونی کلچرل اینڈ آرٹ انہیریٹنس سینٹر
"ہمارا غیر مادی ثقافتی ورثہ کوئی گرد آلود نوادرات نہیں۔ یہ ہماری زندگیوں میں ایک زندہ ورثہ ہے۔ اسی لئے ہمیں اس میں نوجوانوں کی توانائی، تخلیقی صلاحیت اور جوش شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے جدید اور مقبول عناصر کے ساتھ ملا کر ہم مزید نوجوانوں کو اس کے تحفظ اور اسے آگے بڑھانے میں حصہ لینے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔
ہم موسیقی کی تخلیق اور کوریوگرافی (رقص کی ترتیب)سے لے کر ملبوسات اور لوازمات تک ایک مکمل ماحولیاتی نظام بھی تشکیل دے سکتے ہیں تاکہ یہ ثقافتی ورثہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے اور زندگی کے ہر شعبے میں شامل ہو سکے۔”
غیر مادی ثقافتی ورثے کی تعلیم کے فروغ کے لئے پُرعزم یانگ ایسے عملی پروگرام بھی منعقد کرتی ہیں جن میں شہروں اور دیہات کے نوجوان مل کر ہونگ حہ میں نئے فن پارے تخلیق کرتے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): یانگ یونی، بانی، یونی کلچرل اینڈ آرٹ انہیریٹنس سینٹر
"ہم نوجوان نسل ایک ایسے پُل کی حیثیت رکھتے ہیں جو قدیم اور جدید، روایت اور جدت کو آپس میں جوڑتا ہے۔ اب میں چاہتی ہوں کہ مزید نوجوانوں کو ساتھ ملا کر ایک ایسا پُل بنایا جائے جو چینی ثقافت کو دنیا سے جوڑ دے۔”
ہونگ حہ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


