بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت خزانہ نے 2026 میں قبل از سکول تعلیم کی ترقی کے لئے 45.8 ارب یوآن (تقریباً 6.7 ارب امریکی ڈالر) مختص کئے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 12.56 ارب یوآن یا 38 فیصد زیادہ ہے۔
یہ فنڈز بنیادی طور پر مقامی حکومتوں کی اس پالیسی کے نفاذ میں مدد کے لئے استعمال ہوں گے جس کے تحت قبل از سکول بچوں کی نگہداشت اور تعلیم کی فیس ختم کی جا رہی ہے، معیاری اور جامع تعلیمی وسائل تک رسائی بڑھائی جا رہی ہے، تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور کم آمدنی والے خاندانوں اور دیگر محروم طبقات کے بچوں کے لئے مالی امداد کے نظام کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
وزارت کے مطابق 14 ویں پانچ سالہ منصوبے (2021-2025) کے دوران چین کی مرکزی حکومت نے مجموعی طور پر 126.2 ارب یوآن قبل از سکول تعلیم کے لئے مختص کئے تھے۔
2025 کے خزاں سیشن سے چین نے سرکاری کنڈرگارٹنز میں آخری سال کے بچوں کے لئے نگہداشت اور تعلیم کی فیس معاف کر رکھی ہے جبکہ نجی اداروں میں زیر تعلیم مستحق بچوں کے لئے بھی متعلقہ اعانت زر فراہم کی جا رہی ہے۔
یہ پالیسی اب تک ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد بچوں کو فائدہ پہنچا چکی ہے اور گھریلو تعلیمی اخراجات میں 20 ارب یوآن سے زیادہ کی کمی آئی ہے۔ وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ وہ وزارت تعلیم کے ساتھ مل کر مقامی حکام کو صوبائی سطح پر بہتر ہم آہنگی فراہم کرے گی، مرکزی اور مقامی سبسڈی فنڈز کی درست تقسیم کو یقینی بنائے گی اور کنڈرگارٹنز کے معمول کی فعالیت کو برقرار رکھے گی۔
حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ قبل از سکول معیاری تعلیم تک رسائی کو مزید بہتر بنانے، موجودہ کمی کو دور کرنے اور بچوں کی ابتدائی تعلیم کے مجموعی معیار کو مسلسل بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔


