ہومپاکستانقدرتی آفات کی تباہی کے مقابلے کیلئے بہتر انفراسٹرکچر، جامع حکمت عملی،...

قدرتی آفات کی تباہی کے مقابلے کیلئے بہتر انفراسٹرکچر، جامع حکمت عملی، عوامی آگاہی ناگزیر ہے، شہباز شریف

وزیر اعظم شہباز شریف نے قدرتی آفات کے تباہ کن اثرات کے مقابلے کیلئے انفراسٹرکچر کی بہتری، جامع حکمت عملی و عوامی آگاہی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کے اثرات ہماری یادداشت میں اب تک نقش، تعمیراتی شعبہ میں حفاظتی پہلوئوں کو شامل کر کے زلزلوں کی وجہ سے تباہی کو ممکن حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

زلزلہ متاثرین کی یاد میں عالمی دن کے موقع پر جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آج اقوام عالم کیساتھ ہم آواز ہو کر دنیا بھر میں زلزلہ اور دیگر قدرتی آفات کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کرتا ہے، زلزلہ متاثرین کی یاد میں اقوام متحدہ کی طرف سے مختص اس عالمی دن کا مقصد زلزلہ میں وفات پا جانے والوں کی یاد کے علاوہ بچ جانے والوں سے اظہار ہمدردی اور قدرتی آفات سے مقابلہ کرنے کی استعداد کار کو بڑھانا بھی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یہ دن یاددہانی کراتا ہے کہ قدرتی آفات کے تباہ کن اثرات سے مقابلہ کرنے کیلئے انفراسٹرکچر کی بہتری، جامع حکمت عملی اور عوامی آگاہی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر یہ دن بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے، قدرتی آفات سے بچائو کی پیشگی اطلاع کی ٹیکنالوجی اور ڈھانچوں کی مضبوطی میں مربوط باہمی تعاون نہایت ضروری ہے، تعمیراتی شعبہ میں حفاظتی پہلوئوں کو شامل کر کے زلزلوں کی وجہ سے تباہی کو ممکن حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اکتوبر 2005 ء کے تباہ کن زلزلے کے اثرات قومی یادداشت میں نقش ہیں، اس زلزلہ میں آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں 80ہزار سے زائد افراد جان گنوا بیٹھے اور تقریبا 30لاکھ لوگ بے گھر ہوئے، چند لمحوں میں پاکستان میں گہرے انسانی، سماجی اور معاشی اثرات مرتب ہوئے، سانحے کے متاثرین کی ثابت قدمی اور حوصلہ انسانی عزم کی روشن مثال ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے اس سانحے کے بعد جامع ادارہ جاتی اصلاحات متعارف کروائیں تاکہ آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا قیام مربوط قومی فریم ورک کی تشکیل میں اہم سنگ میل ثابت ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ زلزلوں کی پیشن گوئی ممکن نہیں تاہم این ڈی ایم اے تاریخی رجحانات، فالٹ لائن ڈیٹا اور جغرافیائی ٹیکنالوجی کی مدد سے زیادہ خطرناک علاقوں کی نشاندہی کرتا ہے تاکہ ابتدائی انتباہ، انفراسٹرکچر کی مضبوطی، تیاری اور نقصانات میں کمی ممکن ہو سکے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی کاوشوں کے تناظر میں پاکستان اقوام متحدہ کے دفتر برائے آفات کے خطرات میں کمی (یو این ڈی آر آر)اور سینڈائی فریم ورک 2015-2030پر عملدرآمد کے عزم م کا اعادہ کرتا ہے، خصوصا ابتدائی وارننگ سسٹمز تک مساوی رسائی اور زلزلہ برداشت کرنے والے انفراسٹرکچر کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتا ہے، ملکی سطح پر استعداد کار بڑھانا اور عوامی آگاہی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت محفوظ و مضبوط مستقبل کی تعمیر کیلئے پرعزم اور عالمی سطح پر احساس دلاتی ہے کہ وہ مشترکہ اقدامات اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ کاوشوں کو مضبوط کریں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں