چینی زبان کے عالمی دن کے موقع پر بدھ کے روز کینیا کے وسطی علاقے لیمورو میں واقع ریارا ٹی فارم پر ثقافتی تبادلے کی ایک تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کا مقصد چائے کے حوالے سے مقامی اور چینی ثقافت کے درمیان فرق اور مماثلتوں کو اجاگر کرنا تھا۔
"چا یوآن ژی جیان” (چائے کے باغات کے درمیان) کے عنوان سے منعقدہ اس تقریب میں چائے کے کاشتکاروں، اساتذہ اور درجنوں طلبہ نے شرکت کر کے چین اور کینیا کی چائے کے درمیان تکنیکی اور ثقافتی ہم آہنگی کا جائزہ لیا۔
یونیورسٹی آف نیروبی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام ہونے والی اس تقریب میں چائے کے باغات میں رقص، باغات کی سیر، چائے کی جمالیات پر مکالمے اور چائے سے متعلق خطاطی و مصوری کی ورکشاپس بھی شامل تھیں۔
یونیورسٹی آف نیروبی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر وانگ شانگ شوئے نے ثقافتی تعلقات میں چائے کے ایک علامتی پل کے طور پر اہم کردار کو اجاگر کیا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): وانگ شانگ شوئے، ڈائریکٹر، کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ، یونیورسٹی آف نیروبی
’’ہم نے طلبہ کی بڑی تعداد کو اس مقام پر مدعو کیا تاکہ وہ چائے کی ثقافت کا عملی تجربہ کر سکیں۔ چینی چائے اور کینیا کی چائے دونوں بہت مشہور ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ طلبہ قدرتی ماحول میں آئیں اور ثقافتی تفاوت و مماثلت کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور محسوس کریں۔ ایک جانب ہم چینی زبان کا عالمی دن منا رہے ہیں اور دوسری طرف چین اور کینیا کے درمیان عوامی سطح کے رابطوں کو بھی اجاگر کر رہے ہیں۔”
یہ تقریب کینیا کے طلبہ کے لئے دونوں ممالک کی چائے کی ثقافت اور استعمال کے انداز کا تقابلی جائزہ لینے کے حوالے سے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): لیوِس مواؤرا، طالبعلم
” چائے دونوں ثقافتوں کو مزید قریب لانے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ خاص طور پر جب ہم دستیاب مختلف اقسام کو بہتر طور پر سمجھ لیں۔ مثال کے طور پر چین کی چائے کی اقسام کینیا میں درآمد کی جاتی ہیں۔ دوسری طرف کینیا کی چائے کی جو اقسام چین کو برآمد ہوتی ہیں اُن میں بلیک ٹی اور جامنی چائے بہت زیادہ طبی فوائد کی حامل ہیں ۔”
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): کولے فنگیچا، طالبہ
"میں نے چینی ثقافت کے بارے میں ایک بات یہ سیکھی ہے کہ چائے بنانے کا پورا عمل صرف ایک مرحلہ نہیں ہوتا۔یہ دراصل ایک مکمل تجربہ ہوتا ہےجس میں ذہنی سکون اور یکسوئی کے پہلو بھی شامل ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ چائے پیش کرنے اور مہمان نوازی کے آداب بھی۔ چینی چائے کا طریقہ اس لحاظ سے مختلف ہے کہ پہلے آپ چائے کی پتیاں لیتے ہیں پھر ان میں پانی شامل کرتے ہیں۔چند منٹ انتظار کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اسے پیش کیا جاتا ہے۔ اس سے میں نے یہ بھی سیکھا کہ یہ چائے پینے کا ایک صحت مند طریقہ ہے کیونکہ اس میں اسے زیادہ تیز حرارت نہیں دی جاتی۔”
تقریب کا اختتام ایک سیشن پر ہوا جس کا عنوان تھا "کیمرے کی آنکھ سے چائے کو محفوظ کرنا”۔ اس سیشن میں طلبہ نے زرعی طریقوں کو دستاویزی شکل دی۔
نیروبی سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
نیروبی میں چینی زبان کا عالمی دن جوش وجذبے سے منایا گیا
’ریارا ٹی فارم‘ میں ’’چائے کے باغات کے درمیان” کے عنوان سے تقریب
دلچسپ ثقافتی تبادلے میں اساتذہ اور کسان بھی شریک ہوئے
طلبہ نے چینی اور کینین چائے کی ثقافتوں کا تقابلی جائزہ لیا
رقص، سیر، مکالمے اور خطاطی و مصوری کی ورکشاپس تقریب کا حصہ تھیں
پروفیسر وانگ نے چائے کی ثقافت کو عوامی روابط کا علامتی پل قرار دیا
طلبہ نے چینی اور کینین چائے کے تجربات کا تبادلہ کیا
اختتامی سیشن میں تقریب کے تمام عکسی مناظر محفوظ کئے گئے


