ہومتازہ ترینبی بی سی نے ٹرمپ کے بیانات سے قبل غیر معمولی مالیاتی...

بی بی سی نے ٹرمپ کے بیانات سے قبل غیر معمولی مالیاتی ٹریڈنگ پر سوالات اٹھا دیئے

لندن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے دوران ان کے بڑے عوامی بیانات سے پہلے مالیاتی منڈیوں میں بار بار غیر معمولی تجارتی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں جس سے ممکنہ اندرونی معلومات کی بنیاد پر تجارت کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ متعدد مارکیٹوں کے تجارتی ڈیٹا کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ صدر کی جانب سے سوشل میڈیا یا میڈیا انٹرویوز کے ذریعے مارکیٹ پر اثر انداز ہونے والے ریمارکس دینے سے چند گھنٹے یا منٹ پہلے تجارتی حجم میں اچانک اضافہ ہوا۔ ان سرگرمیوں کے فوراً بعد قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان غیر قانونی ‘انسائیڈر ٹریڈنگ’ کی تمام علامات کو ظاہر کرتا ہے جس میں غیر عوامی معلومات کی بنیاد پر سودے کئے جاتے ہیں۔ کچھ ماہرین نے یہ تجویز بھی دی کہ ہو سکتا ہے کچھ تاجر صدر کے پالیسی اشاروں کا پہلے سے اندازہ لگانے میں زیادہ ماہر ہو گئے ہوں۔

رپورٹ میں کئی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ مارچ میں ٹرمپ نے ایک میڈیا انٹرویو میں اشارہ دیا تھا کہ ایران کے ساتھ تنازع "تقریباً مکمل طور پر ختم” ہو چکا ہے۔ اس بیان کے عام ہونے سے چند منٹ پہلے تیل کی قیمتوں میں کمی کے امکان پر کی جانے والی ٹریڈنگ میں اچانک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تبصرے سامنے آنے کے بعد قیمتوں میں تیزی سے گراوٹ آئی۔

اسی مہینے کے آخر میں ٹرمپ کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ، جس میں "تعمیری” مذاکرات اور تناؤ کے ممکنہ حل کا ذکر کیا گیا تھا، سے پہلے تیل کی منڈیوں میں ایک بار پھر غیر معمولی تجارتی سرگرمی دیکھی گئی جس کے بعد قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔

اپریل 2025 کے ایک اور معاملے میں ٹرمپ کی جانب سے بعض ٹیرف اقدامات کو روکنے کے اعلان کے بعد امریکی سٹاک مارکیٹوں میں تیزی آگئی۔ اس اعلان سے پہلے ہی مارکیٹ میں اضافے کی توقع پر بڑے پیمانے پر سودے بازی کی جا چکی تھی جس سے بعض افراد نے بھاری منافع کمایا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی قانون کے تحت ‘انسائیڈر ٹریڈنگ’ غیر قانونی ہے لیکن معلومات کے ذرائع کی نشاندہی اور ثبوت جمع کرنے میں مشکلات کے باعث اس پر عملدرآمد مشکل رہتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں