منیلا (شِنہوا) ایک فلپائنی ماہر کا کہنا ہے کہ جاپان دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد 81 برسوں میں پہلی بار فلپائن کی سرزمین پر اپنے جنگی دستے واپس بھیج کر علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
منیلا میں قائم ایک تھنک ٹینک کے صدر ہرمن ٹیو لاریل نے ‘شِنہوا’ کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ جاپان کی دائیں بازو کی حکومت کی جارحانہ عسکریت پسندی کی جانب پیشرفت فلپائن سمیت ایشیا بحرالکاہل خطے کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لئے خطرے کی علامت ہے۔
فلپائن اور امریکہ نے پیر کے روز اپنی سالانہ ‘بالیکاٹن’ فوجی مشقوں کا آغاز کیا، جس میں جاپان اب محض ایک مبصر کے طور پر نہیں بلکہ اپنے ایک ہزار سے زائد جنگی فوجی بھیج کر شریک ہو رہا ہے۔ یہ فلپائن اور امریکہ کی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی مشقیں ہیں جن میں 17 ہزار سے زائد فوجی حصہ لے رہے ہیں۔
لاریل نے کہا کہ فلپائن میں جاپانی جنگی افواج کی واپسی فسطائیت مخالف عالمی جنگ کی فتح کے نتائج کے لئے ایک واضح چیلنج ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے آغاز کے بعد جاپان نے 1942 میں فلپائن پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد سے جاپانی افواج نے وہاں مظالم کا ایک طویل سلسلہ جاری رکھا، جس میں منیلا قتل عام، باتان ڈیتھ مارچ اور جنسی غلامی کے لئے خواتین کی زبردستی بھرتی شامل ہے جس کے نتیجے میں 10 لاکھ سے زائد فلپائنی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔


