وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان سے ایران جلد ریلوے ٹریک کا آغاز کرنے جارہے ہیں۔
کراچی میں پاکستان ریلوے کے تحت دی انٹرنیشنل سکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ ریلوے ٹریک جلد یورپ کی طرف بڑھے گا، کراچی سرکلر ریلوے بنانا سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا شاگرد ہوں اور 25 برس سے ان کیساتھ کام کررہا ہوں، ریلوے کے 14سکولوں، رائل پام اور 7ہسپتالوں کو آٹ سورس کررہے ہیں، 28مئی تک ریلوے کو ڈیجیٹلائز کررہے تھے لیکن عالمی حالات کی وجہ سے اب وہ ایک ماہ بعد آپریشنل ہوجائیگا۔
انکا کہنا تھا کہ روہڑی کراچی سب سے مشکل ٹریک ہے جو 1861سے 1868کا ہے، وزیراعظم کے فیصلہ کے مطابق اس 480کلو میٹر ٹریک کو 2ارب ڈالر سے بنانے جا رہے ہیں، تقریباً 700ارب روپے میں یہ ٹریک مکمل ہوجائیگا۔
حنیف عباسی نے کہا کہ دنیا میں پاکستان کی بڑی اہمیت ہے جو لوگ باہر رہ کر اپنی شناخت چھپاتے تھے آج وہ اپنی شناخت چھپاتے نہیں، 78سالہ تاریخ میں کبھی پاکستان کیلئے ایسے مناظر نہیں دیکھے، اسوقت روس چین ایران امریکہ اور خلیجی ممالک سب ہمیں دیکھ رہے ہیں، پاکستان نے کامیاب سفارتکاری سے دو بھائیوں سعودی عرب اور ایران کو لڑنے نہیں دیا، باتیں کرنا بڑا آسان ہے لیکن قوم کیلئے 24گھنٹے جاگنا الگ لیول ہے۔
قبل ازیں میڈیا سے گفتگو میں وزیر ریلوے نے کہا کہ 25دسمبر کو ریلوے ٹریک کو تھرکول سے ملانے جا رہے ہیں، روہٹری نوکھنڈی 900کلومیٹر اور نوکھنڈی سے تافتان 87کلومیٹر کا ٹریک دوبارہ بحال کیا جارہا ہے، ریلوے نہیں چلے گی تو پاکستان نہیں چلے گا۔
اس موقع پر گورنر سندھ نہال ہاشمی بھی موجود تھے۔


