تہران (شِنہوا) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کسی بھی ممکنہ "نئی مہم جوئی” کے خلاف اپنے دفاع کے لئے پوری طرح پرعزم ہے۔
ایران کے صدارتی دفتر کے بیان کے مطابق پزشکیان نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران خطے کی تازہ صورتحال، تہران اور واشنگٹن کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات اور دو ہفتے کی جنگ بندی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔
پزشکیان نے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کسی نئی "مہم جوئی” کے مشرق وسطیٰ اور دنیا کی سلامتی پر سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے امن مذاکرات اور جنگ بندی کے دوران مسلسل اپنے وعدے توڑے ہیں اور ایران کی نام نہاد بحری ناکہ بندی کا "اشتعال انگیز اور غیر قانونی” اقدام اقوام متحدہ کے منشور اور جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی صدر کے مطابق ایسے اقدامات اور امریکی حکام کے دھمکی آمیز بیانات نے امریکہ پر ایران کے اعتماد کو مزید کم کر دیا ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ ماضی کے رویوں کو دہرانے اور سفارت کاری کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہمسائیگی اور باہمی احترام کی بنیاد پر اچھے تعلقات کو برقرار رکھنے اور انہیں مزید بہتر بنانے کے لئے پرعزم ہے اور امید رکھتا ہے کہ علاقائی ممالک ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے بغیر کسی بیرونی طاقت خصوصاً امریکہ کی "تباہ کن” مداخلت کے بغیر اجتماعی تعاون کے ذریعے امن و سلامتی کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں تنازع ختم کرنے اور امن قائم کرنے کی پاکستان کی کوششوں پر روشنی ڈالی اور اس حوالے سے علاقائی ممالک کے ساتھ اپنی حالیہ مشاورت سے ایرانی صدر کو آگاہ کیا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ امریکی افواج نے خلیج عمان میں ناکہ بندی کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز کو روک کر اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ تازہ خبروں کے مطابق ایران نے اپنے جہاز کی امریکی تحویل کے ردعمل میں امریکی فوجی جہازوں پر حملے کئے ہیں۔


