الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات اور سالانہ گوشوارے جمع نہ کرانے پر استحکام پاکستان پارٹی کا انتخابی نشان روک لیا۔
منگل کو چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے آئی پی پی کیخلاف انٹرا پارٹی الیکشن اور سالانہ گوشوارے جمع نہ کرانے بارے کیس پر سماعت کی۔
دوران سماعت آئی پی پی کی جانب سے کوئی نمائندہ الیکشن کمیشن میں پیش نہ ہوا۔
دورانِ سماعت ڈی جی پولیٹیکل فنانس مسعود شیروانی نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ آئی پی پی اپنے آئین اور الیکشنز ایکٹ پر عمل نہیں کر رہی، پارٹی آئین کے تحت ہر 4 سال بعد آئی پی پی کے انٹرا پارٹی الیکشنز ہونا لازم ہیں جبکہ آئی پی پی کے انٹرا پارٹی الیکشنز جنوری 2026میں ہونے تھے جو نہیں ہوئے۔
کمیشن کو بتایا گیا کہ آئی پی پی سالانہ فنڈز اور اخراجات کی تفصیلات بھی جمع نہیں کرا رہی، اس لئے استحکام پاکستان پارٹی کا نشان روک رکھا ہے۔
انہوں نے استحکام پاکستان پارٹی کو ڈی لسٹ کرنے کی سفارش بھی کی۔
اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا آئی پی پی کو نوٹس دیا گیا تھا جس پر ڈی جی پولیٹکل فنانس نے بتایا کہ نوٹس جاری کیا جا چکا ہے۔
بعد ازاں الیکشن کمیشن نے استحکام پاکستان پارٹی کا انتخابی نشان روکتے ہوئے کیس کی سماعت 26مارچ تک ملتوی کر دی۔


