کابل (لارڈ میڈیا): افغانستان میں طالبان کے انٹیلی جنس ادارے نے اقوام متحدہ کے امدادی مشن UNAMA کے دو افغان اہلکاروں کو گرفتار کرلیا ہے۔ یہ گرفتاری مغربی افغانستان کے صوبہ ہرات میں ہوئی۔ اقوام متحدہ نے تصدیق کی ہے کہ گرفتار شدہ افراد اس کے افغانستان مشن سے وابستہ افغان عملہ ہیں، تاہم ان کی شناخت اور گرفتاری کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دونوں اہلکاروں کے خلاف عائد الزامات یا ان کی گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ طالبان حکام نے اقوام متحدہ کے نمائندوں کو زیر حراست اہلکاروں سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے طالبان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور اس کے اہلکاروں کو حاصل خصوصی مراعات اور استثنیٰ کا مکمل احترام یقینی بنائیں۔
یاد رہے کہ جون 2026 میں ہرات شہر میں کم از کم 30 خواتین کو گرفتار کیا گیا تھا جو اقوام متحدہ کی خوراک کی فراہمی کے ادارے سے منسلک تھیں۔ ان خواتین کو طالبان کے اہلکاروں نے لباس سے متعلق ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں خواتین کو رہا کردیا گیا، تاہم احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کے طاقت کے استعمال سے ایک بچہ ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ نے اس موقع پر طالبان حکام کو یاد دلایا تھا کہ افغان شہریوں کو آزادیٔ اظہار، پرامن اجتماع، شخصی آزادی اور من مانی گرفتاری سے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کی افغانستان میں معاونت کا مشن 2002 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا مقصد افغانستان میں امن، سیاسی استحکام، انسانی حقوق اور انسانی امداد کے سلسلے میں عالمی برادری کی کوششوں میں معاونت کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جون 2026 میں مشن کی مدت مزید ایک سال کے لیے بڑھا کر جون 2027 تک کردی تھی۔


