ہوماہم ترینآرام دہ زندگی، تحفظ، جدید ٹیکنالوجی نے پاکستانی سکالر کو چین میں...

آرام دہ زندگی، تحفظ، جدید ٹیکنالوجی نے پاکستانی سکالر کو چین میں مستقل رہنے پر آمادہ کر دیا

تیانجن (شِنہوا) صبح کے وقت پاکستانی شہری محمد سلمان ناصر چین میں تیار کردہ الیکٹرک گاڑی چلا کر شمالی چین کے شہر تیانجن میں واقع تیانجن یونیورسٹی کی انجنوں کی کلیدی ریاستی لیبارٹری پہنچے۔

37 سالہ ناصر پہلی بار 2017 میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے چین آئے تھے۔ اب انہوں نے یہیں اپنا کیریئر اور زندگی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’میں نے یہاں رہنے کا فیصلہ صرف اس لئے نہیں کیا کہ چین کے ’دوہرے کاربن اہداف‘ نے تحقیق کے لئے واضح سمت اور مستحکم پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، بلکہ اس لئے بھی کہ یہاں کی زندگی مجھے مستقبل کے حوالے سے گہرے اعتماد اور یقین کا احساس دیتی ہے۔‘‘ چین نے کاربن کے حوالے سے دوہرا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے تحت 2030 سے پہلے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو عروج پر پہنچانا اور 2060 سے پہلے کاربن نیوٹریلٹی حاصل کرنا ہے۔

قومی امیگریشن انتظامیہ کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں چین میں غیر ملکیوں کے داخلے کے 2 کروڑ 29 لاکھ 10 ہزار دورے ریکارڈ کئے گئے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20.4 فیصد زیادہ ہیں۔ ان میں ویزا فری داخلوں کا حصہ 77.7 فیصد رہا۔

بڑھتی ہوئی تعداد میں غیر ملکی چین میں کام، رہائش اور سیاحت کے لئے آنے کا انتخاب کر رہے ہیں۔ انہیں یہاں آرام، تحفظ اور مستقبل کی جھلک لئے منفرد ماحول کا امتزاج اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔

پاکستانی سکالر محمد سلمان ناصر (بائیں سے دوسرے) چین کی شمالی تیانجن بلدیہ میں واقع تیانجن یونیورسٹی میں تجربات کر رہے ہیں۔(شِنہوا)

آرام دہ زندگی

جب ناصر گاڑی نہیں چلا رہے ہوتے تو انہیں میٹرو اور بسوں کا نظام انتہائی سہل لگتا ہے، جبکہ شیئرڈ سائیکلیں کیمپس کے گیٹ سے ان کی لیبارٹری تک کا ’’آخری فاصلہ‘‘ طے کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان کے محلے میں پارک، کلینک اور سپر مارکیٹیں پیدل فاصلے پر موجود ہیں۔

تیانجن اور بیجنگ کے درمیان تیز رفتار ٹرینیں باقاعدگی سے چلتی ہیں اور انہیں تقریباً نصف گھنٹے میں منزل تک پہنچا دیتی ہیں، جبکہ نیویگیشن، ٹریفک کی بروقت معلومات اور رائیڈ ہیلنگ سروسز کو یکجا کرنے والی موبائل ایپس ہر مرحلے کی منصوبہ بندی کی زحمت سے بچاتی ہیں۔ ناصر نے کہا کہ ’’مجھے درکار ہر چیز ایک ہی ایپ میں موجود ہے۔‘‘

پاکستانی سکالر محمد سلمان ناصر (بائیں سے پہلے) چین کی شمالی تیانجن بلدیہ میں واقع تیانجن یونیورسٹی میں تجربات کر رہے ہیں۔(شِنہوا)

اس سہولت کے پس پردہ چین میں عوامی خدمات میں مسلسل بہتری کا عمل کارفرما ہے۔ ’’کاروباری تارکین وطن کے لئے چین میں کام اور زندگی گزارنے کی رہنما کتاب (2026 ایڈیشن)‘‘ میں اب ایمبیڈڈ سم کارڈز کے حصول سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں، جبکہ ان شہروں کی فہرست بھی اپ ڈیٹ کی گئی ہے جہاں غیر ملکی موبائل ادائیگی کی ایپس یا بینک کارڈز کے ذریعے میٹرو استعمال کر سکتے ہیں۔

وسیع تر یکطرفہ ویزا فری پالیسیوں اور 240 گھنٹے کی ویزا فری ٹرانزٹ پالیسیوں کو بہتر بنائے جانے کے ساتھ چین میں رہنے اور کام کرنے والے غیر ملکیوں کے لئے موافقت کی لاگت مسلسل کم ہو رہی ہے۔

ناصر کا ماننا ہے کہ چین میں زندگی کی سہولت اس کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’چین میں رہتے ہوئے میرے پیسے میری توقع سے کہیں زیادہ کام آتے ہیں۔‘‘ ان کے بچے کے کنڈرگارٹن کی ماہانہ فیس تقریباً 200 امریکی ڈالر ہے، جس میں روزانہ 3 وقت کا کھانا بھی شامل ہے، جبکہ عام بیماری کے علاج اور بنیادی ادویات سمیت ڈاکٹر سے معائنہ کروانے پر صرف تقریباً 15 امریکی ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔

ناصر نے مزید کہا کہ ’’چین مناسب قیمتوں پر اعلیٰ معیار کی خدمات فراہم کرتا ہے، جس سے لوگوں کو کم لاگت میں مختلف سہولیات اور اختیارات تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔‘‘

حفاظتی پہلو

رات کے وقت چین کی سڑکیں روشن رہتی ہیں، کھانے کے سٹالوں سے اٹھتی بھاپ اور لوگوں کی گفتگو کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، جبکہ راہ گیر بے فکری سے گھومتے پھرتے ہیں۔ غیر ملکی وی لاگرز کی ویڈیوز میں اکثر ایسے ہی مناظر دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستانی سکالر محمد سلمان ناصر (بائیں پہلے) چین کی شمالی تیانجن بلدیہ میں واقع تیانجن یونیورسٹی میں تجربات کر رہے ہیں۔(شِنہوا)

ناصر نے کہا کہ تحفظ کے اس احساس نے ان کے طرز زندگی کو تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے یہ سوچ کر اپنے لباس کا انتخاب تبدیل نہیں کرنا پڑتا کہ میں کہاں جا رہا ہوں۔ میں رات گئے بھی اپنے خاندان کے ساتھ بلاخوف رات کا کھانا کھانے باہر جا سکتا ہوں۔ مجموعی طور پر میں خود کو کہیں زیادہ پرسکون محسوس کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ذہنی سکون کی کوئی قیمت نہیں۔

گیلپ کی 2025 گلوبل سیفٹی رپورٹ کے مطابق عوامی تحفظ اور امن و امان کے احساس کے اشاریے میں چین دنیا کے نسبتاً بلند سکور رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔

چین کی وزارت عوامی تحفظ کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے پہلے 5 ماہ میں عوامی تحفظ کے اداروں کی جانب سے درج کئے گئے فوجداری مقدمات کی تعداد میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 16.1 فیصد کمی ہوئی، جبکہ امن و امان سے متعلق مقدمات میں 10.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ 2025 میں چینی شہریوں میں تحفظ کا احساس 98.2 فیصد تک پہنچ گیا اور مسلسل 6 سال سے 98 فیصد سے زیادہ برقرار ہے۔

نان کائی یونیورسٹی کے مرکز برائے انسانی حقوق علوم کے نائب سربراہ ہوانگ ہائی تاؤ نے تحفظ کے اس احساس کی وجہ چین کے عوام دوست اور انتہائی موثر سماجی نظم و نسق کے نظام کے ساتھ ساتھ نیکی اور اعتماد کی گہری جڑیں رکھنے والی ثقافتی اقدار کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا علاقائی تنازعات اور نظم ونسق کی ناکامیوں سے دوچار ہے، تحفظ کا یہ قابل اعتماد احساس مزید قیمتی بن جاتا ہے۔

مستقبل کا احساس

ناصر کے لئے وی چیٹ اور علی پے جیسی سپر ایپس روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو سنبھالتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’بس میں سوار ہونے کے لئے آپ کیو آر کوڈ سکین کرتے ہیں، جبکہ پارکنگ لاٹس میں نہ ٹکٹ لینے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی بقایا رقم کے لئے پریشان ہونا پڑتا ہے۔ یہ گھر کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہے۔‘‘

آج چین بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر وسیع پیمانے پر قائم ہو چکا ہے۔ ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیاں شہری سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔ بعض چوراہوں پر روبوٹس ٹریفک کے انتظام میں معاونت کرتے ہیں۔ بجلی اور دیگر یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی اور سکول میں داخلے کا اندراج سمارٹ فون پر چند بار ٹیپ کرکے مکمل کیا جا سکتا ہے۔ میٹرو میں بلاتعطل موبائل سگنلز مسافروں کو سفر کے دوران کام کرنے یا تفریحی مواد دیکھنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔

ناصر نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’کبھی یہ سب مستقبل کی ٹیکنالوجیز سمجھی جاتی تھیں، لیکن چین میں یہ پہلے ہی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔‘‘

ایک محقق کی حیثیت سے ناصر چین میں نئی ٹیکنالوجیز کے تیزی سے عملی شکل اختیار کرنے سے بھی متاثر ہیں۔ ان کی برقی گاڑی خودکار پارکنگ اور معاون ڈرائیونگ جیسی سہولیات سے لیس ہے، جو انہیں اب بھی حیران کرتی ہیں۔

اس سے بھی زیادہ متاثر کن بات پیداوار اور خدمات کے شعبوں میں انسان نما روبوٹس کا پختہ انضمام ہے۔ ناصر نے کہا کہ ’’میں واضح طور پر دیکھ سکتا ہوں کہ یہ ٹیکنالوجیز کس طرح مرحلہ وار ہمارے مستقبل کے تصورات کو حقیقت میں بدل رہی ہیں۔‘‘

تیانجن یونیورسٹی آف فارن سٹڈیز کے سکول آف یورپی سٹڈیز کی استاد وانگ روتونگ کا ماننا ہے کہ ویزا فری پالیسیوں میں توسیع، زندگی کے مختلف مراحل سے متعلق خدمات میں بہتری اور روزمرہ زندگی کے عملی تجربات سے لے کر چین غیر ملکیوں کو کام اور رہائش کے لئے ایک طویل مدتی اور قابل پیش گوئی ماحول فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ غیر ملکی اب صرف چین کا دورہ نہیں کر رہے بلکہ یہاں مستقل طور پر رہائش اختیار کر رہے ہیں اور ملک کی مسلسل ترقی کے ساتھ پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں