غیر ملکی صحافیوں کے ایک گروپ نے حال ہی میں چین کے صوبہ گوئی ژو میں ایک ’’لائٹ ہاؤس فیکٹری‘‘ اور معروف فاسٹ دوربین سمیت دیگر کئی اہم منصوبوں کا دورہ کیا ہے۔
برازیل کے ایک صحافی نے اس پہاڑی خطے کی اختراع پر مبنی اور عوام پر مرکوز ترقیاتی حکمت عملی کے بارے میں اپنے خیالات بیان کئے۔
ساؤنڈ بائٹ (انگریزی): مورو راموس پنٹوس، برازیل کا صحافی
’’سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہم دیکھ سکتے ہیں چین نئی معیاری پیداواری قوتوں کے تصور کو کس قدر تیزی سے عملی شکل دے رہا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی صنعتوں میں خودکاری اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ میں فاسٹ ریڈیو دوربین کا دورہ کرنے کے لئے بہت متجسس تھا جو دنیا کی سب سے بڑی سنگل ڈش ریڈیو دوربین ہے۔ میرے خیال میں یہ عالمی جنوب کے ممالک کے لئے ایک بہت بڑی تحریک ہے۔ چین ایک ایسا ملک ہے جس نے بہت تیزی سے ترقی کی اور ٹیکنالوجی اور علم کے میدان میں مسلسل پیش رفت کر رہا ہے۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ ہمیں ان راستوں اور یہاں کی بڑی بڑی سرنگوں سے گزرنے کا موقع ملا۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہ چین کے سب سے زیادہ پہاڑی صوبوں میں سے ایک ہے۔ یہاں عوام کے فائدے کے لئے بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا گیا ہے جسے دیکھ کر بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ یہ سرمایہ کاری زیادہ پیسہ کمانے کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کو آپس میں جوڑنے اور مقامی دیہاتیوں کی زندگی بہتر بنانے کے لئے کی گئی۔ یہ میرے لئے عوام پر مرکوز ترقیاتی سوچ اور عوام پر مرکوز پالیسیوں کی ایک مثال ہے۔ ریاست آج بھی اور مستقبل میں بھی لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کے لئے سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ شاید ہم بھی اس تجربے سے کچھ سیکھ سکتے ہیں اور اپنے ممالک کے دیہی علاقوں میں لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کے عمل میں اسے بروئے کار لا سکتے ہیں۔‘‘
گوئی یانگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


