ہومتازہ ترینغیر ملکی مالیاتی ادارے چین کی ہارڈ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی...

غیر ملکی مالیاتی ادارے چین کی ہارڈ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی سے پرامید

بیجنگ (شِنہوا) مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور جدید مینوفیکچرنگ میں پیش رفت سے برآمدات، آمدنی اور عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہونے کے باعث غیر ملکی مالیاتی ادارے چین کی ہارڈ ٹیک صنعتوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کو زیادہ پرکشش قرار دے رہے ہیں۔

کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں چین کی ہائی ٹیک برآمدات میں سالانہ بنیاد پر 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جو مجموعی برآمدات میں 17.8 فیصد اضافے سے کہیں زیادہ ہے۔ برآمدات میں یہ اضافہ سرمایہ کاری کے بہاؤ میں بھی نظر آ رہا ہے، جہاں غیر ملکی فنڈز چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور عالمی اشاریوں میں ہارڈ ٹیک شعبے کی نئی رجسٹرڈ کمپنیوں کو شامل کیا جا رہا ہے۔

نومورا میں گلوبل میکرو ریسرچ کے سربراہ اور گلوبل مارکیٹس ریسرچ کے شریک سربراہ راب سبارامن نے کہا کہ چین میں کم لاگت اور وافر بجلی کی فراہمی، بڑھتی ہوئی ہنرمند افرادی قوت اور فزیکل اے آئی میں ابتدائی برتری اس کے اے آئی صنعتی سلسلے کی تیز رفتار ترقی کا باعث بن رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین میں اوپن ویٹ ماڈلز کی تیاری سے کاروباری اداروں کی جانب سے ان کے استعمال میں تیزی آ سکتی ہے، جس سے عمومی مقصد کی ٹیکنالوجی کے طور پر اے آئی سے حاصل ہونے والی پیداواری صلاحیت کے فوائد پوری معیشت میں زیادہ تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔ انہوں نے ڈیپ سیک اور مون شاٹ اے آئی سمیت دیگر چینی کمپنیوں کے تیار کردہ ماڈلز کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ ان ماڈلز کی کم لاگت ایک اور فائدہ ہے۔ اس کے فوائد چین سے باہر بھی پہنچ سکتے ہیں، بالخصوص ان ابھرتی ہوئی منڈیوں تک جو نسبتاً سستے چینی اے آئی ماڈلز اختیار کر سکتی ہیں۔

مورگن اسٹینلے کے چیف چائنہ اکانومسٹ رابن شنگ نے کہا کہ جدید مینوفیکچرنگ میں چین کی طاقت بھی تیزی سے نمایاں ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر نصب شدہ نئی توانائی کے ذخیرے کی صلاحیت میں چین کا حصہ تقریباً نصف ہے جبکہ جدید ادویات کے لئے بیرون ملک لائسنسنگ معاہدوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ رجحانات چین کے ہارڈ ٹیک شعبے اور سرکردہ مینوفیکچررز میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے امکانات کو تقویت دیتے ہیں۔

یہ مضبوطی غیر ملکی سرمایہ کاروں کے سرمایہ کاری سے متعلق فیصلوں میں بھی تیزی سے ظاہر ہو رہی ہیں۔ رواں سال گولڈمین ساکس نے آمدنی میں بہتری کی رفتار کے پیش نظر سی ایس آئی 300 کے لئے 12 ماہ کے ہدف میں دو مرتبہ اضافہ کیا ہے اور چینی حصص کے حوالے سے اوور ویٹ موقف برقرار رکھا ہے۔

گولڈمین ساکس ریسرچ کے چیف چائنہ ایکویٹی سٹریٹجسٹ کنگر لاؤ نے کہا کہ بینک کا مثبت موقف آمدنی میں بہتری کی رفتار اور سازگار معاشی و مالیاتی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے شیئرز نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو تنوع کے ایسے فوائد فراہم کئے جو اب بھی پوری طرح توجہ حاصل نہیں کر سکے، جبکہ ہارڈ ٹیک اور اے آئی کے شعبوں میں پرکشش سرمایہ کاری کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں