ہومتازہ ترینانڈونیشیا میں مخالف جنس کا لباس پہننا حرام قرار

انڈونیشیا میں مخالف جنس کا لباس پہننا حرام قرار

جکارتہ (لارڈ میڈیا): انڈونیشیا کی بااثر اسلامی تنظیم علما کونسل (ایم یو آئی) نے یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران مردوں کو خواتین کا لباس پہننے سے خبردار کرتے ہوئے اسے ‘حرام’ قرار دیا ہے۔ یہ فتویٰ ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں ایل جی بی ٹی کی مخالفت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

علما کونسل نے بیان میں کہا کہ مردوں کا خواتین کا لباس پہننا شریعت اور سماجی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ‘لیسبین، گے، سوڈومی اور فحاشی’ (ایل جی ایس پی) کی مبینہ خفیہ مہم کو روکنے کے لیے ہے۔

انڈونیشیا میں ہر سال 17 اگست کو آزادی کی تقریبات اور کھیلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ مختلف علاقوں میں مزاحیہ سرگرمی کے طور پر مرد خواتین کا لباس اور حجاب پہن کر فٹبال کھیلتے ہیں۔

تاہم علما کونسل نے حالیہ فتویٰ میں کہا ہے کہ یہ اقدامات شریعت کی خلاف ورزی ہیں اور خواتین کے مردوں کا لباس پہننے پر بھی اسی نوعیت کا مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔

حقوقِ ہم جنس پرستوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم GAYa Nusantara کے بانی دیدے اوٹومو نے کہا ہے کہ مردوں کا خواتین کے لباس میں فٹبال کھیلنا یا پریڈ میں شرکت کرنا یومِ آزادی کی تقریبات کا حصہ ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں