بیجنگ (شِنہوا) حال ہی میں ہینگ لی ہیوی انڈسٹری نے تین بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کے ساتھ چھ بڑے امونیا بردار بحری جہاز بنانے کے معاہدے کئے ہیں، جو گیس بردار جہازوں کے شعبے میں کمپنی کی نئی توسیع کی علامت ہے۔
رواں سال کے آغاز میں چین کے شمال مشرقی ساحلی شہر دالیان میں قائم اس کمپنی نے اپنا پہلا ہائی پاور ایل این جی ڈوئل فیول میرین انجن تیار کرکے فراہم کیا، جو چین میں جدید اور اعلیٰ معیار کے بحری انجنوں کی تیاری میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
نجی کمپنی کے شعبہ خارجہ امور کے ڈائریکٹر ژانگ ہاؤ شو نے کہا کہ ’’اعلیٰ معیار کے بحری انجن خود تیار کرنے سے ماضی کی طرح درآمدات پر انحصار کرنے کے بجائے ہینگ لی ہیوی انڈسٹری نے اپنی سپلائی چین کو مستحکم کیا ہے اور ملک کی جہاز سازی کی صنعت میں ایک اہم خلا کو پر کیا ہے۔‘‘
چین میں نئے بحری جہازوں کے آرڈرز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ چینی شپ بلڈرز درمیانے اور اعلیٰ معیار کے جہازوں کی تیاری کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں اور اس شعبے کو سمارٹ، ماحول دوست اور مربوط انداز میں ترقی دے رہے ہیں۔
ژانگ نے مزید کہا کہ ’’آج جہاز سازی کی صنعت میں جامع تبدیلی آ چکی ہے۔ ہمارا مقصد دنیا کے اعلیٰ معیار کے ماحول دوست بحری جہازوں اور جدید بحری آلات کی تیاری کا مرکز بننا ہے۔‘‘
جہاز سازی کا شعبہ چین کی روایتی صنعتوں میں ماحول دوست تبدیلی اور صنعتی اپ گریڈیشن کی ایک مثال ہے، جس سے دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں ترقی کی نئی رفتار پیدا ہو رہی ہے۔
جب جیا شیاؤجیا نے شمالی چین کے ایک بڑے کیبل مرکز ننگ جن کاؤنٹی میں ’’ڈیٹا بزنس‘‘ شروع کرنے کی تجویز دی تو صنعتی شعبے سے وابستہ کاروباری افراد اس خیال کو سمجھ نہیں سکے۔ تاہم تین سال سے بھی کم عرصے میں ان کے سٹارٹ اپ کی تیار کردہ صنعتی بڑے ماڈل پر مبنی ٹیکنالوجی نے مقامی روایتی کیبل صنعت کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔
ننگ جن کی کیبل صنعت کا آغاز 1980 کی دہائی میں ہوا تھا اور اب یہاں 2500 سے زیادہ پیداواری اور معاون اداروں پر مشتمل ایک مکمل صنعتی نظام موجود ہے۔ 2025 میں اس صنعتی کلسٹر نے 83.96 ارب یوآن (12.44 ارب امریکی ڈالر) کی آمدنی حاصل کی۔
تاہم، طویل عرصے تک یہ شعبہ چھوٹے، بکھرے ہوئے اور کم معیار کے کاروباروں کے مسئلے سے دوچار رہا، جس کے باعث بڑی تعداد میں آرڈرز حاصل کرنا اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا مشکل تھا۔
اس صورتحال میں سمارٹ ٹیکنالوجی کے استعمال سے بڑی تبدیلی آئی۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے اس پلیٹ فارم نے کیبل کی پوری سپلائی چین کو ڈیجیٹل اور زیادہ ذہین بنا دیا ہے۔ رجسٹرڈ کمپنیوں کا قابلِ اعتماد ڈیٹا حقیقی آن لائن لین دین سے حاصل ہوتا ہے۔


