ہومتازہ ترینامریکی فوج کا اعلیٰ ترین جنرل ایران کے ساتھ جنگ سے نکلنے...

امریکی فوج کا اعلیٰ ترین جنرل ایران کے ساتھ جنگ سے نکلنے کا خواہاں

واشنگٹن (شِنہوا) امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی فوج کے اعلیٰ ترین جنرل ڈین کین نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دیگر اعلیٰ مشیروں سے نجی گفتگو میں کہا ہے کہ واشنگٹن کو ایران کے ساتھ جاری جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے یہ تجویز اس لئے دی کہ تنازع کو مزید بڑھانے کے لئے موجود فوجی آپشنز الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں جبکہ صرف فضائی طاقت سے ٹرمپ کے اعلان کردہ مقاصد حاصل ہونے کا امکان کم ہے۔ رپورٹ میں معاملے سے باخبر تین ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹرمپ مسلسل ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے خیال سے گریز کرتے نظر آئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ صرف فضائی حملوں کے ذریعے تہران کو ان کی شرائط پر معاہدے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے تاہم کین اور ٹرمپ کی کابینہ کے دیگر ارکان نجی طور پر اس نتیجے کو "غیر یقینی” سمجھتے ہیں۔

سی این این کی یہ رپورٹ ٹرمپ کے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مجموعی طور پر امریکی گولہ بارود کے ذخائر کافی ہیں تاہم بعض اقسام کے گولہ بارود کی فراہمی "کچھ حد تک محدود” ہے۔

پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں 18 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 687 زخمی ہوئے ہیں۔

ایران کے خلاف جنگ پر امریکی عوام کی مخالفت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور متعدد سرویز میں اس رجحان کی نشاندہی ہوئی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ اور اپسوس کے حالیہ سروے کے مطابق 68 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ یہ جنگ "لڑنے کے قابل نہیں” ہے۔ رائٹرز اور اپسوس کے نئے سروے کے مطابق صرف تین میں سے ایک امریکی ایران کے خلاف جنگ کی حمایت کرتا ہے، جو پانچ ماہ سے جاری اس تنازع کے ابتدائی دنوں کے بعد حمایت کی سب سے کم شرح ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں