نیامی (شِنہوا) نائجر کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ سفارتی تعلقات رکھنے والے 53 افریقی ممالک کی مصنوعات کے لئے چین کی زیرو ٹیرف پالیسی صرف تجارتی اہمیت تک محدود نہیں بلکہ یہ مشترکہ ترقی، زیادہ جامع اقتصادی عالمگیریت اور باہمی احترام، برابری اور باہمی مفاد کے اصولوں پر مبنی تعاون کے لئے چین کے دیرینہ عزم کا اظہار بھی ہے۔
نائجر ایوان صنعت وتجارت کے ماہر امادو ماگاجی نے شِنہوا کو بتایا کہ اس پالیسی کے ذریعے چین-افریقہ تعاون فورم کے تحت افریقہ کی صنعتی ترقی، عالمی پیداواری سلسلے میں براعظم افریقہ کی شمولیت مضبوط بنانے اور افریقی کاروباری اداروں کے لئے مزید مواقع پیدا کرنے کے وعدوں کو عملی شکل دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام چین اور افریقہ کے درمیان مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تشکیل میں بھی مددگار ہے، جہاں ایک فریق کی خوشحالی دوسرے فریق کی ترقی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس سے باہمی اعتماد مضبوط ہوتا ہے اور چین-افریقہ اقتصادی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پالیسی سے افریقی کاروباری اداروں میں چینی منڈی کے حوالے سے دلچسپی بڑھ رہی ہے اور چین-افریقہ اقتصادی تعاون کے امکانات پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی مضبوط ہوا ہے۔
ماہر نے کہا کہ اس پالیسی سے جدید زراعت اور زرعی صنعت، تیار شدہ غذائی مصنوعات، مویشیوں سے متعلق صنعتوں، ٹیکسٹائل اور ملبوسات، جنگلاتی مصنوعات، قدرتی وسائل سے تیار کردہ مصنوعات اور زیادہ اضافی قدر رکھنے والی ہلکی صنعتوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ درمیانی اور طویل مدت میں یہ پالیسی افریقی برآمدات کو بہتر بنانے اور علاقائی پیداواری سلسلے کی ترقی میں مدد دے گی جو چینی منڈی کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوں گی۔

جنوبی افریقہ کے صوبہ ویسٹرن کیپ کے شہر پارل میں واقع بوون لینڈ فارم میں ایک درخت پر اخروٹ نما پھل لگے ہوئے ہیں۔(شِنہوا)
نائجر کے لئے متوقع فوائد کے حوالے سے ماگاجی نے چین کی زیرو ٹیرف پالیسی کو غیر معمولی تزویراتی موقع قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ نائجر میں زرعی، مویشیوں اور معدنی وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں جبکہ تل، مونگ پھلی، لوبیا، عربی گوند، ٹائیگر نٹس، مویشیوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات اور دیگر کئی زیادہ اضافی قدر رکھنے والی مصنوعات کے شعبوں میں بھی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین کی وسیع منڈی تک ترجیحی رسائی سے نائجر کی برآمدات میں اضافہ ہوگا، مقامی سطح پر خام مال کی پروسیسنگ کو فروغ ملے گا اور روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔
ماگاجی نے کہا کہ دنیا کے بعض حصوں میں بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی، جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور تحفظ پسندی کے دوبارہ فروغ کے درمیان یہ پالیسی ایک مضبوط پیغام دیتی ہے اور آزاد تجارت، اقتصادی کشادگی، کثیرجہتی اور مشترکہ ترقی کے لئے چین کے عزم کی تجدید کرتی ہے۔
مستقبل کے حوالے سے ماگاجی نے چین اور افریقہ کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کے امکانات کو انتہائی روشن قرار دیا۔


