جوہانسبرگ (شِنہوا) جنوبی افریقہ کے ایک تجزیہ کار نے کہا ہے کہ ملک میں بجلی کی بنیادی سہولت کو وسعت دینے کے بڑے منصوبوں کے پیش نظر چین کے ساتھ سرمایہ کاری، مقامی پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے توانائی کے شعبے میں تعاون مزید بڑھانے کا موقع موجود ہے۔
توانائی اور بجلی کے شعبے پر تحقیق اور مشاورت فراہم کرنے والی جنوبی افریقی کمپنی ای ای بزنس انٹیلی جنس کے منیجنگ ڈائریکٹر کرس یی لینڈ نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیز اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے میں چین کی قائدانہ حیثیت اسے جنوبی افریقہ کی طویل مدتی توانائی کی منتقلی میں معاونت کے لئے ایک تزویراتی شراکت دار بناتی ہے، جبکہ اس سے مقامی صنعتی صلاحیت اور روزگار کے مواقع کو وسعت دینے میں بھی مدد ملتی ہے۔
یی لینڈ نے شِنہوا کو بتایا کہ اب موقع یہ ہے کہ تجارتی تعلقات سے آگے بڑھ کر سرمایہ کاری، مقامی پیداوار اور ہنر کی منتقلی پر مبنی تعلقات قائم کئے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ اپنے مربوط وسائل کے منصوبے کے تحت تقریباً 100 گیگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی اضافی صلاحیت قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں زیادہ تر قابل تجدید توانائی شامل ہوگی۔ اس کے ساتھنئے بجلی منصوبوں کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے ترسیل اور تقسیم کے نیٹ ورک کو نمایاں طور پر وسعت دی جائے گی۔
یی لینڈ نے کہا کہ سولر پینلز کے پرزوں، بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز، انورٹرز اور متعلقہ ٹیکنالوجی کی عالمی سپلائی چین میں چین کو نمایاں برتری حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی افریقہ کی توانائی کی منتقلی کے عمل میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
توانائی کی پیداوار سے آگے بڑھتے ہوئے تجزیہ کار نے کہا کہ قومی بجلی کے ترسیلی نظام کو جدید بنانا اور وسعت دینا ملک کی فوری ترجیحات میں شامل ہے۔
یی لینڈ کے مطابق جنوبی افریقہ کی سرکاری بجلی کمپنی ایسکوم کا ترسیلی ترقیاتی منصوبہ اور ہائی وولٹیج بجلی کے ترسیلی ڈھانچے میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لئے حکومتی اقدامات بین الاقوامی انجینئرنگ، خریداری اور تعمیراتی کمپنیوں کے لئے نمایاں مواقع پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین کو بڑے پیمانے پر بجلی کی ترسیلی سہولت تیار کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی کمپنیوں کو انجینئرنگ، آلات کی تیاری، ٹرانسفارمرز، سوئچ گیئر، کیبلز اور خودکار نظام کے شعبوں میں مہارت حاصل ہے جو جنوبی افریقہ کے بجلی کے نیٹ ورک کو جدید بنانے اور وسعت دینے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت سے مقامی پیداوار کو مضبوط بنانے، ٹیکنالوجی اور ہنر کی منتقلی کو فروغ دینے اور ملک کے وسیع تر صنعتی ترقی کے منصوبے میں مدد ملے گی۔
تجزیہ کار نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری کے مضبوط تعلقات دونوں ممالک کے پہلے سے مستحکم تجارتی تعلقات کو مزید تقویت دیں گے اور جنوبی افریقہ کے وسیع تر معاشی ترقی کے اہداف کو آگے بڑھائیں گے۔
یی لینڈ نے کہا کہ جنوبی افریقہ اور چین کے درمیان مضبوط تجارتی تعلقات، دیرینہ خیرسگالی اور دونوں حکومتوں کے درمیان قریبی روابط سرمایہ کاری پر مبنی تعاون کو وسعت دینے کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں مزید مضبوط تعاون نہ صرف جنوبی افریقہ کی توانائی کی منتقلی میں مدد دے گا بلکہ صنعتی ترقی کو فروغ دے گا، روزگار کے مواقع پیدا کرے گا اور دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنائے گا۔


