ہومتازہ ترینمذاکرات کے حق میں ہیں، لیکن کوئی ہمیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور...

مذاکرات کے حق میں ہیں، لیکن کوئی ہمیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کرسکتا، ایرانی صدر

تہران (شِنہوا) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایرانی حقوق کے تحفظ کے لئے مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

پزشکیان نے یہ بات اپنے دفتر کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے ایرانی حکومت کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لئے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا۔

پزشکیان نے کہا کہ جب تک امریکہ ایم او یو کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا، ایران بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوں گے، وہاں ہم بھی اپنی ذمہ داری جاری رکھنے کے پابند نہیں ہوں گے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں پزشکیان نے مستعفی ہونے کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ اپنا کام جاری رکھیں گے۔ یہ بیان ایران کی قیادت میں ایم او یو کے معاملے پر اختلافات کی افواہوں کے درمیان سامنے آیا تھا۔

جون میں ایران اور امریکہ نے ایم او یو پر دستخط کئے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک کو حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لئے 60 روز کے اندر مذاکرات کرنا تھے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث مذاکرات کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں