چین میں تیار کی گئی الیکٹرک بسیں آذربائیجان کے دارالحکومت باکو کی سڑکوں پر تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔
سال 2024 میں چین سے درآمد کی گئی بی وائی ڈی کمپنی کی 160 الیکٹرک بسوں نے باکو میں باقاعدہ سروس کا آغاز کر دیا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (روسی): نورلان سلمانلی، بس ڈرائیور، باکو
’’میں نے نومبر 2024 کے لگ بھگ الیکٹرک بسیں چلانا شروع کی تھیں۔ مجھے فوراً ہی محسوس ہوا کہ یہ اُن تمام بسوں سے بالکل مختلف ہیں جو اس سے پہلے میں نےچلائی تھیں۔ سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ یہ نہایت خاموشی کے ساتھ اور ہموار انداز میں چلتی ہیں۔ ان میں شور اور ارتعاش نہ ہونے کے برابر ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ بسیں ماحول دوست ہیں اور فضا کو نقصان نہیں پہنچاتیں۔ مسافر واقعی انہیں بہت پسند کرتے ہیں۔ خاص طور پر بزرگ افراد اور بچوں والے خاندان ان پر سفر کرتے ہوئےبے حد خوشی محسوس کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اِن جدید الیکٹرک بسوں نے باکو میں عوامی نقل و حمل کو زیادہ آسان اور آرام دہ بنا دیا ہے۔‘‘
سال 2026 میں باکو میں بی وائی ڈی کی 300 سے زائد الیکٹرک بسیں چل رہی ہیں۔
اِن میں سے زیادہ تر بسیں باکو سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع سومغایت انڈسٹریل پارک میں قائم آذربائیجان انرجی آٹوموٹیو فیکٹری میں اسمبل کی گئی ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): اورخان قمباروف، ڈپٹی ڈائریکٹر برائے پیداوار، آذربائیجان انرجی آٹوموٹیو فیکٹری
’’اب تک ہماری فیکٹری میں 300 بسیں اسمبل کی جا چکی ہیں۔ ہمارے چینی ساتھی تکنیکی امور سے لے کر معیار برقرار رکھنے تک ہر مرحلے پر ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہیں۔ وہ اپنی پیداواری مہارت اور تجربے سے ہماری مقامی ٹیم کو آگاہ رکھتے ہیں۔ میرے خیال میں یہی مضبوط باہمی تعاون ہمارے منصوبے کی کامیاب پیشرفت کی ایک اہم وجہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری فیکٹری آذربائیجان میں آٹوموٹیو صنعت کا ایک اہم مرکز بن سکتی ہے۔ مجھے اس ترقی کا حصہ ہونے پر بے حد فخر ہے۔‘‘
سال 2030 تک باکو میں عوامی نقل و حمل کی تمام گاڑیوں کو برقی متبادل سے تبدیل کرنا آذربائیجان کا ہدف ہے۔
چین کا تعاون آذربائیجان کو ماحول دوست سفری نظام کی جانب اپنی منتقلی تیز کرنے میں مدد دے رہا ہے۔
باکو سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


