ماسکو (لارڈ میڈیا): روسی ہیکرز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے نیٹو کے روسی علاقوں پر حملوں میں براہ راست ملوث ہونے کے شواہد حاصل کیے ہیں۔ یہ دعویٰ روسی خبر رساں ادارے تاس نے رپورٹ کیا۔
ہیکرز کے مطابق یہ مواد یوکرینی مسلح افواج کی جانب سے جولائی میں روس کے لینن گراڈ اور کالیننگراڈ علاقوں میں آئل ٹرمینلز پر حملوں سے متعلق ہے۔
ایک گمنام ہیکر نے تاس کو بتایا کہ حاصل کردہ شواہد میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نیٹو انٹیلی جنس سے منسلک ہائبرڈ وارفیئر کے ماہر بارٹ ڈی واکٹر نے یوکرین کی سیکیورٹی سروس (ایس بی یو) کو ان دو روسی علاقوں میں آئل ٹرمینلز کے کوآرڈینیٹس فراہم کیے تھے، ساتھ ہی مائع قدرتی گیس لے جانے والے گیزپروم ٹینکر کے کوآرڈینیٹس بھی دیے تھے۔
دستاویزات کے مطابق، ڈی واکٹر نے ایس بی یو انٹرنیشنل کوآپریشن سینٹر کے نمائندے کے ساتھ آن لائن میٹنگ کی تجویز دی اور کہا کہ ان کے انٹیلی جنس افسر کو بھی شامل کیا جائے۔ جواب میں، یوکرینی جانب نے ایس بی یو کے ماہر میخائل مارچینکو کو اس رابطے میں شامل کرنے کی تجویز دی۔
تاس نے ہیکر کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ یورپی ممالک نے روس کے خلاف حملوں میں ہائبرڈ اور معلوماتی جنگ کے ماہرین کو شامل کیا تھا، جبکہ یوکرین کو محض ایک آلہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔


