ہومتازہ ترینمالیاتی ٹیکنالوجی میں بہتری آئی، بغیر آگہی کے یہ خطرات بھی پیدا...

مالیاتی ٹیکنالوجی میں بہتری آئی، بغیر آگہی کے یہ خطرات بھی پیدا کر سکتی ہے، گورنر اسٹیٹ بینک

کراچی (لارڈ میڈیا) گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ مالیاتی ٹیکنالوجی میں بہتری آئی ہے، لیکن بغیر آگہی کے یہ خطرات بھی پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے آئی سی ایم اے فیوچر فنانس سمٹ و کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی تہذیب کے ارتقاء میں ٹیکنالوجی کا کردار اہم ہے اور مالیاتی شعبے کی جدت بھی اسی کا نتیجہ ہے۔

جمیل احمد نے کہا کہ ٹرانسفارمر ٹیکنالوجی نے مصنوعی ذہانت کو فروغ دیا ہے، جس سے معلومات اکٹھا کرنے کی رفتار تیز ہوئی ہے، تاہم اصلی سافٹ ویئر انسان ہی تیار کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے کئی غیر دانستہ نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے ابتدائی مراحل میں ہی ٹیکنالوجی کو اپنایا، جس سے 30 ارب ریٹیل ٹرانزیکشنز ہوئیں، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 77 فیصد زیادہ ہیں۔ ملک میں 20 لاکھ سے زائد تاجر کیو آر پیمنٹ سسٹم استعمال کر رہے ہیں، جبکہ راست پلیٹ فارم پر 3.6 ملین ٹرانزیکشنز ہوئیں جن کی مالیت 1.7 کھرب روپے رہی۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ خواتین کی مالیاتی شمولیت 4 فیصد سے بڑھ کر 52 فیصد ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو دیے جانے والے قرضے 46 فیصد اضافے کے بعد 850 ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھرتی ہوئی معیشت کو صکوک اور کارپوریٹ بانڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔ گرین صکوک کے ذریعے بھی بہتری لائی جا سکتی ہے۔ آئی سی ایم اے پر زور دیا کہ وہ اپنے نصاب اور استعداد کار میں مزید بہتری لائے، خصوصاً ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں