تہران (لارڈ میڈیا): ایران کی پارلیمنٹ میں ایک نیا قانون زیر غور ہے جس کے تحت امریکا، اسرائیل اور دیگر دشمن ممالک کے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روکا جا سکے گا۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، یہ بل پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیشن میں موجود ہے اور خلاف ورزی کرنے والے جہازوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی سے متعلق ایران اور عمان کے مذاکرات سے الگ ہے۔ ایران کے نزدیک دشمن ممالک کے جہاز آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکیں گے، خاص طور پر اسرائیل سے منسلک فوجی یا سول سامان لے جانے والے جہازوں پر پابندی ہوگی۔
ایسے بحری جہاز جو ایران یا اس کے اتحادی گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث رہے ہوں، ان پر بھی پابندی ہوگی۔ فارس نیوز کے مطابق، ان ممالک یا افراد سے منسلک جہاز بھی پابندی کی زد میں آئیں گے جنھیں ایران اپنی سلامتی یا مفادات کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔
بل میں تجویز دی گئی ہے کہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں پر ان کے کارگو کی مجموعی مالیت کے 20 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ ایرانی رکن پارلیمنٹ علیرضا سلیمی نے کہا کہ بل ابھی ماہرین کی جانچ کے مرحلے میں ہے اور پارلیمنٹ نے قانونی، بحری اور سلامتی کے ماہرین سے تجاویز طلب کی ہیں۔
اس قانون کی تیاری کا اعلان پہلی بار مارچ 2026 میں کیا گیا تھا اور تازہ ترین مسودے میں پابندیوں کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ اگر یہ قانون موجودہ شکل میں منظور ہو جاتا ہے تو ایران کے امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو سکتا ہے جبکہ عالمی توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔


