صنعاء (لارڈ میڈیا): یمن میں حوثی جنگجوؤں کے حملوں میں کم از کم 38 فوجی ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ حملے مأرب اور حضرموت کے صوبوں میں فوجی اڈوں پر کیے گئے۔
یمنی حکام نے بتایا کہ حوثیوں نے بیک وقت کئی اہداف کو نشانہ بنایا، جس کی وجہ سے فورسز کو شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے اور بعض کی حالت نازک ہے، جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
یہ حملے اپریل 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد سب سے بڑا عسکری تصادم ہیں۔ اگرچہ باضابطہ جنگ بندی ختم ہوچکی تھی، مگر غیر اعلانیہ جنگ بندی برقرار تھی، جس سے لڑائی میں کمی آئی تھی۔
حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملے سعودی فوجی نقل و حرکت کے جواب میں کیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کی مبینہ فوجی تیاریوں کے ردعمل میں یمنی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن میں دوبارہ لڑائی شروع ہونے کی صورت میں اس کے اثرات سعودی عرب، خلیجی ممالک اور عالمی بحری تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔


