اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ میں چین کے ایک مندوب نے دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی کے لئے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے مضبوط بین الاقوامی نظم ونسق پر زور دیاہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے ناظم الامور سن لی نے کہا کہ دہشت گرد گروہ انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت ، ڈرونز اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اشتعال انگیزی، بھرتی، مالی معاونت اور حملوں کے لئے استعمال کر رہے ہیں، جس سے دہشت گردی کے خاتمے کی عالمی کوششوں کو نئے چیلنجز درپیش ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطرات کے جائزے اور ضابطہ کاری فریم ورک کو مزید موثر بنائے اور "پرتشدد دہشت گردی، نسلی تفریق اور مذہبی انتہا پسندی کی 3 قوتوں” کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے اپنے نظریات پھیلانے اور دراندازی کرنے سے روکے۔
سن لی نے ترقی پذیر ممالک کی انسداد دہشت گردی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لئے ٹیکنالوجی کی منتقلی، تربیت اور معلومات کے تبادلے کے ذریعے انہیں مزید تعاون فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی اب بھی بین الاقوامی امن و سلامتی کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو تعاون کو فروغ دینا چاہیے، انسداد دہشت گردی کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور مربوط اقدامات کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔
شام اور افغانستان میں دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے شام کی عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ سلامتی کونسل کی فہرست میں شامل مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ سن لی نے افغان حکام پر بھی زور دیا کہ وہ انسداد دہشت گردی سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کریں اور افغانستان کو دوبارہ دہشت گرد سرگرمیوں کا مرکز بننے سے روکیں۔
چینی نمائندے نے افریقہ کے ساحلی خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سرحدی انتظام، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور صلاحیت بڑھانے کے شعبوں میں علاقائی ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو افریقی یونین کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنا چاہیے اور دہشت گردی کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کے لئے ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانا چاہیے۔
سن لی نے کہا کہ چین اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس سمیت مختلف فریم ورکس کے تحت بین الاقوامی انسداد دہشت گردی تعاون کو فروغ دیتا رہے گا اور دہشت گردی کی ہر شکل کے خلاف تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔


