اسلام آباد (لارڈ میڈیا) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ججز کی تعیناتی کی سمری کی منظوری نہ دینے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ درخواست پر سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی، جو ایڈووکیٹ لقمان ظفر نے ایڈووکیٹ زاہد آصف چوہدری کے ذریعے دائر کی تھی۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ججز کی تعیناتی کی سمری صدر پاکستان کو بھیجی گئی ہے جبکہ اطلاعات ہیں کہ حکومت نوٹیفکیشن جاری کرنے جا رہی ہے۔ وکیل نے عدالت سے سمری کی تفصیلات طلب کرنے کی استدعا کی۔
عدالت نے دریافت کیا کہ کیا درخواست میں یہ استدعا کی گئی ہے، جس پر وکیل زاہد آصف نے بتایا کہ یہ استدعا درخواست کا حصہ ہے۔
جسٹس طاہر نے پوچھا کہ کیا صدر کے خلاف آئینی درخواست قابل سماعت ہے۔ وکیل نے کہا کہ صدر کی منظوری کے بعد وزارت قانون نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے، تاہم بغیر منظوری بھی وزارت قانون نوٹیفکیشن جاری کر سکتی ہے۔
عدالت نے وکیل سے کہا کہ ایسا فیصلہ بتائیں جس میں صدر کو ذمہ داری ادا کرنے کی ہدایت دی گئی ہو۔ وکیل نے کہا کہ صدر کا عہدہ علامتی ہے اور 15 دن گزرنے کے باوجود منظوری نہ ہونے پر متعلقہ اتھارٹی کو نوٹیفکیشن جاری کرنا چاہیے۔
آخر میں عدالت نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔


