راولپنڈی (لارڈ میڈیا) ایوان صدر کے ذرائع نے ججز کی تعیناتی کے معاملے پر کہا ہے کہ صدر کا عہدہ آئینی ہے اور وہ کوئی پوسٹ آفس نہیں ہے۔ آئین کے آرٹیکل 2 کے تحت صدر کسی بھی سمری کا جائزہ لے کر منظور، واپس یا مسترد کر سکتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ قانون سازی کی سمری دوبارہ آنے کی صورت میں صدر کے اختیارات محدود ہو جاتے ہیں، لیکن دیگر سمریوں میں صدر مکمل اختیار رکھتا ہے۔ آئین کے مطابق صدر کے فیصلے عدالت میں چیلنج نہیں کیے جا سکتے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نامزد ججز کے متعلق جوڈیشل کمیشن کو مکمل معلومات نہیں دی گئیں، اور بعض امیدواروں کو نظرانداز کر دیا گیا۔ فوجداری مقدمات کی معلومات بھی خفیہ رکھی گئیں اور راولپنڈی ڈویژن کو نظرانداز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق، اگر معاملہ عدالت میں جاتا ہے تو درخواست کی جائے گی کہ تمام امیدواروں کی تفصیلات پبلک کی جائیں اور پھر جوڈیشل کمیشن کو بھیجا جائے۔ ایوان صدر عدالتی استثنیٰ پر زور دے گا۔


