واشنگٹن (لارڈ میڈیا) امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی پیٹرولیم مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی ہے، جس سے بڑی تیل کمپنیوں کے منافع میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل کمپنیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ موجودہ صورت حال میں ضرورت سے زیادہ پیسہ بنا رہی ہیں، جس سے وہ خوش نہیں ہیں۔
سعودی آرامکو نے دوسری سہ ماہی میں 33.4 ارب ڈالر منافع حاصل کیا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہے۔ ایکسون موبل اور شیورون نے بھی اپنے منافع میں دو گنا اضافہ رپورٹ کیا ہے۔
امریکا میں پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے صارفین پر مالی بوجھ بڑھ گیا ہے۔ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کے لیے یہ ایک اہم سیاسی چیلنج بن چکا ہے۔
آبنائے ہرمز میں تیل سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ حالیہ مذاکرات کے باوجود کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق سعودی عرب نے اپنی کچھ برآمدات کو بحیرہ احمر کے راستے منتقل کیا ہے، لیکن حوثی باغیوں کی کارروائیوں نے وہاں بھی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔


