ہومتازہ ترینٹیکنالوجی کی جدت سے چین کے اہم زرعی خطے میں تبدیلی، غذائی...

ٹیکنالوجی کی جدت سے چین کے اہم زرعی خطے میں تبدیلی، غذائی تحفظ مزید مستحکم

ہاربن (شِنہوا) حئی لونگ جیانگ کی زرخیز سیاہ مٹی پر خودکار ٹریکٹر مسلسل کام کر رہے ہیں، جبکہ جدید ڈرون فضا میں پرواز کرتے ہوئے فصلوں کی نشوونما کی نگرانی کر رہے ہیں۔

سمارٹ زرعی حل کی بدولت ٹیکنالوجی کی بہتری صوبے میں واقع چین کے زرعی مرکز کی نئی تشکیل کر رہی ہے، جس سے ملک کے غذائی تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

چین کا شمال مشرقی صوبہ حئی لونگ جیانگ مسلسل 16 برس سے چین کا سب سے بڑا غلہ پیدا کرنے والا صوبہ ہے۔ یہ صوبہ زرعی ٹیکنالوجی میں اختراع کو ترجیح دے رہا ہے تاکہ اناج کی پیداوار کو بلند اور مستحکم رکھا جا سکے، جبکہ کاشتکاری کی کارکردگی اور کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو۔

صوبائی دارالحکومت ہاربن میں حئی لونگ جیانگ ڈیوو ٹیکنالوجی ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے ماہرین مسلسل ایسے جدید اور درستگی سے بیج بونے والے آلات تیار اور بہتر بنا رہے ہیں، جو حقیقی وقت میں آپریشن کی نگرانی کرنے والے نظام سے لیس ہیں۔

چین کے شمال مشرقی صوبہ حئی لونگ جیانگ میں بیداہوانگ گروپ کے تحت ایک زرعی کمپنی کے کھیت میں بغیر ڈرائیور کی زرعی مشین دھان کی پنیری کاشت کر رہی ہے۔(شِنہوا)

2009 میں قائم ہونے والی ڈیوو چین میں آلو کی کاشت، بوائی اور کٹائی کے پورے عمل سے متعلق مشینری کی تحقیق و ترقی کے شعبے میں ایک نمایاں کمپنی ہے۔ کمپنی کی جنرل منیجر وانگ چھون یان نے کہا کہ "کمپنی اپریل سے مکمل پیداواری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ مخصوص ضروریات کے مطابق درستگی سے بوائی کرنے والے آلات تیار کئے جا سکیں، جو براہ راست کاشت کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔”

بڑے اور جدید زرعی آلات کی تحقیق و ترقی، تیاری اور فروغ کے لئے قومی آزمائشی زون کی سرکاری حیثیت رکھنے والا صوبہ حئی لونگ جیانگ ملکی زرعی مشینری کی صنعت کی اعلیٰ معیار کی ترقی میں چین بھر میں سرفہرست ہے۔ ٹیکنالوجی میں اختراع کے ذریعے یہ خطہ جدید زراعت کی مجموعی کارکردگی اور پیداواری استعداد میں جامع بہتری لا رہا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں