ین چھوان(شِنہوا) دنیا کے کئی حصوں میں صحرائی پھیلاؤ ماحولیاتی نظام اور لوگوں کے روزگار کے لئے خطرہ بنتا جا رہا ہے، ایسے میں ریت کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے حوالے سے چین کا تجربہ ان ممالک کے لئے نئی رہنمائی فراہم کر رہا ہے جو اپنی تباہ حال زمینوں کی بحالی کے خواہاں ہیں۔
چین کا شمال مغربی ننگ شیا ہوئی خودمختار علاقہ تین اطراف سے صحراؤں میں گھرا ہوا ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں سے صحرائی پھیلاؤ کے خلاف جدوجہد کر رہا ہے۔ مسلسل کوششوں کے نتیجے میں یہ علاقہ، جو کبھی ریت کے پھیلاؤ سے شدید متاثر تھا، اب ماحولیاتی بحالی کی ایک مثال بن چکا ہے۔ آج یہی تجربات چین سے باہر دیگر خطوں کو بھی اسی نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
2025 میں قائم ہونے والا صحرائی پھیلاؤ کی روک تھام و انسداد کا چین۔وسطی ایشیا تعاون مرکز، جو ننگ شیا میں واقع ہے، تکنیکی تبادلوں، مشترکہ تحقیق اور آزمائشی منصوبوں کے لئے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اس کا مقصد چین کے تجربات کو شراکت دار ممالک کے ماحولیاتی حالات اور ترقیاتی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے والی تکنیکوں میں بھوسے کی شطرنج نما رکاوٹیں بھی شامل ہیں۔ اس طریقہ کار، جسے چین نے تیار کیا اور وسیع پیمانے پر اپنایا، میں بھوسے کو جالی نما انداز میں بچھا کر اس کا کچھ حصہ ریت میں دبا دیا جاتا ہے تاکہ ریت کے ٹیلوں کو مستحکم کیا جا سکے اور پودوں کی افزائش کے لئے موزوں ماحول پیدا ہو۔
تاہم چینی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صحرائی پھیلاؤ پر قابو پانے کے لئے کوئی ایک ہی طریقہ ہر جگہ موثر نہیں ہو سکتا۔ تعاون مرکز کے نائب ڈائریکٹر اور سینئر انجینئر ہوانگ وی نے کہا کہ "کسی بھی طریقہ کار کی کامیابی کا انحصار مقامی حالات پر ہوتا ہے۔”
ہوانگ وی نے بتایا کہ اگرچہ ننگ شیا میں ہوا روکنے اور ریت کو مستحکم کرنے کی جامع تکنیکیں کئی دہائیوں کے عملی تجربے سے آزمائی اور بہتر بنائی گئی ہیں، تاہم انہیں ہر شراکت دار ملک کے منفرد ماحولیاتی حالات، انتظامی صلاحیت اور ترقیاتی ترجیحات کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔
گزشتہ ماہ تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں صحرائی پھیلاؤ کی روک تھام کی ورکشاپ کے دوران ہوانگ وی نے وہاں کے پہاڑی جغرافیے اور مٹی کے شدید کٹاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے تربیتی نصاب ترتیب دیا۔ اس میں پہاڑی علاقوں میں شجرکاری، مٹی کے تحفظ، جنگلاتی کیڑوں کے انتظام اور جنگلات میں آگ سے بچاؤ جیسے موضوعات بھی شامل کئے گئے۔


