حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور ا کی خاموش اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے مشترکہ ووٹوں سے ایوان بالا کے منتخب رکن وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ اعتراف کہ "جس نظام میں ہم رہ رہے ہیں وہ گر چکا ہے” محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ درحقیقت موجودہ حکمرانوں کے اپنے طرزِ حکمرانی پر فردِ جرم ہے۔ جب ایک وفاقی وزیر، جو خود اسی حکومت کا اہم ستون ہے، یہ تسلیم کرے کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے، مسائل کا حل موجودہ ڈھانچے میں ممکن نہیں، ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے، نوجوان وظائف اور لیپ ٹاپ نہیں بلکہ میرٹ، شفاف نظام اور روزگار چاہتے ہیں، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس ناکام نظام کا سب سے بڑا ذمہ دار کون ہے؟ اگر حکومت خود اعتراف کر رہی ہے کہ ملک صرف "فائر فائٹنگ” پر چل رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کے بنیادی ادارے، حکومتی منصوبہ بندی، معاشی سمت اور انتظامی ڈھانچہ سب شدید بحران کا شکار ہیں۔
محسن نقوی نے نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دراصل ایک ایسی حقیقت کو تسلیم کیا ہے جسے پاکستان میں کئی دہائیوں سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، مگر انتظامی ڈھانچہ آج بھی تقریباً وہی ہے جو کئی دہائیاں پہلے تھا۔ پنجاب، جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کے کئی ممالک سے بڑا صوبہ ہے، ایک ہی انتظامی اکائی کے طور پر چلایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے صوبے میں امن وعامہ کی ابتر صورتحال عام عوام کی عوامی نماٸندوں تک عدم رساٸی تعلیم صحت کے بجٹ کو لاہور اور چند دیگر بڑے شہروں میں ہی استعمال کرنا اوراسے صوبے کی ترقی سے تعبیر کرنا جہاں سیاسی جہالت ہے وہیں صوبے کی بےبس مظلوم عوام کے ساتھ ظلم اور ان کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے بھی مترادف ہے اسی طرح بلوچستان رقبے کے لحاظ سے چونکہ ملک کا سب سے بڑاصوبہ ہے جہاں بنیادی سہولیات تک رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے، اسی طرح سندھ سمیت خیبرپختونخوا بھی انتظامی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس تناظر میں نئے صوبوں کا قیام ایک منطقی اور قابلِ غور تجویز ہے، بشرطیکہ اس کا مقصد عوامی خدمت، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور انتظامی بہتری ہو، نہ کہ محض سیاسی مفادات کا حصول۔ تاہم اس بحث کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ نئے صوبے خود بخود مسائل کا حل نہیں ہوں گے اگر حکمرانی کا انداز، احتساب کا نظام، میرٹ کی پاسداری اور اداروں کی کارکردگی تبدیل نہ کی جائے۔ اگر وہی نااہلی، اقربا پروری، سیاسی مداخلت اور بدانتظامی نئے صوبوں میں بھی منتقل ہو جائے تو انتظامی تقسیم سے عوام کو کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ اس لیے نئے صوبوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ مضبوط، شفاف اور جوابدہ طرزِ حکمرانی بھی ناگزیر ہے۔ وفاقی حکومت کی موجودہ کارکردگی پر نظر ڈالیں تو معیشت مسلسل قرضوں پر انحصار کر رہی ہے۔ بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور سود کی مد میں خرچ ہو جاتا ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور تحقیق پر محدود وسائل بچتے ہیں۔ عوام مہنگائی، بے روزگاری، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے، ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور کمزور خریداری طاقت سے شدید متاثر ہیں۔ حکومت بارہا معاشی استحکام کے دعوے کرتی ہے، مگر عام شہری کی زندگی میں اس استحکام کے اثرات دکھائی نہیں دیتے۔ اگر وزیر داخلہ خود یہ کہہ رہے ہیں کہ ہر سال قرض بڑھ رہا ہے اور بجٹ منفی بنیادوں پر بنتا ہے تو یہ اس معاشی حکمتِ عملی کی ناکامی کا اعتراف ہے جو گزشتہ برسوں سے اختیار کی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی محنت، طویل اوقاتِ کار یا مسلسل اجلاس اپنی جگہ، لیکن کسی بھی حکومت کی کامیابی کا معیار صرف یہ نہیں ہوتا کہ اس کے سربراہ کتنے گھنٹے کام کرتے ہیں، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ ان فیصلوں کے نتائج عوام تک پہنچتے ہیں یا نہیں۔ اگر اٹھارہ گھنٹے کام کرنے کے باوجود نظام صرف "فائر فائٹنگ” پر چل رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پالیسی سازی، ادارہ جاتی اصلاحات اور طویل المدتی منصوبہ بندی میں بنیادی کمزوریاں موجود ہیں۔ کامیاب ریاستیں بحرانوں پر فوری ردعمل کے ساتھ ساتھ مستقبل کی منصوبہ بندی بھی کرتی ہیں، جبکہ پاکستان میں اکثر حکومتی توجہ وقتی مسائل کے حل تک محدود رہتی ہے۔ پنجاب حکومت کی کارکردگی بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے متعدد ترقیاتی منصوبوں، سبسڈی پروگراموں اور عوامی سہولتوں کے اعلانات کیے، تاہم ناقدین کے مطابق انتظامی اصلاحات، مقامی حکومتوں کے مؤثر نظام، سرکاری اداروں کی استعداد کار، صحت اور تعلیم کے بنیادی ڈھانچے، ٹریفک مینجمنٹ، شہری منصوبہ بندی، پانی کی فراہمی، ماحولیاتی آلودگی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے جیسے بنیادی شعبوں میں مطلوبہ پیش رفت نظر نہیں آتی۔ متعدد حلقوں کا مؤقف ہے کہ حکومتی توجہ تشہیری مہمات اور فوری نوعیت کے منصوبوں پر زیادہ رہی، جبکہ دیرپا اصلاحات نسبتاً پس منظر میں چلی گئیں۔ پنجاب میں بیوروکریسی پر غیر معمولی انحصار، بار بار انتظامی تبدیلیاں، افسران کے تبادلے، بعض منصوبوں میں شفافیت سے متعلق اٹھنے والے سوالات، بلدیاتی نظام کی کمزوری اور اختیارات کی مرکزیت جیسے عوامل بھی انتظامی مسائل کو بڑھاتے ہیں۔ اگر صوبائی دارالحکومت سے دور جنوبی پنجاب، پوٹھوہار، سرائیکی وسیب اور دیگر علاقوں کے عوام کو بنیادی فیصلوں کے لیے لاہور کا محتاج رہنا پڑے تو انتظامی انصاف کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہی وہ دلیل ہے جو نئے صوبوں کے قیام کے حق میں زیادہ مضبوط انداز میں سامنے آتی ہے۔ نئے صوبوں کے حق میں ایک مضبوط دلیل یہ بھی ہے کہ انتظامی تقسیم سے حکومت عوام کے زیادہ قریب آتی ہے۔ فیصلے مقامی سطح پر ہوتے ہیں، وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوتی ہے، پسماندہ علاقوں کو اپنی ترجیحات کے مطابق ترقیاتی منصوبے بنانے کا موقع ملتا ہے اور بیوروکریسی پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے آبادی اور انتظامی ضروریات کے مطابق اپنے وفاقی ڈھانچے میں تبدیلیاں کیں تاکہ گورننس بہتر بنائی جا سکے۔ پاکستان میں بھی جنوبی پنجاب، ہزارہ،بہاولپور،ہزارہ اور دیگر مجوزہ انتظامی یونٹس پر سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت موجود ہے۔اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ نئے صوبوں کا قیام صرف آئینی ترمیم سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے، مالی وسائل، نئے اداروں کا قیام، انتظامی منصوبہ بندی اور عوامی اعتماد بھی ضروری ہوگا۔ اگر یہ عمل شفاف انداز میں مکمل کیا جائے تو اس کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں، لیکن اگر اسے سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کیا گیا تو اس سے مزید تقسیم اور بداعتمادی پیدا ہونے کا خدشہ بھی رہے گا۔محسن نقوی نے نوجوانوں کے حوالے سے جو بات کی، وہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ نوجوان واقعی صرف لیپ ٹاپ، وظائف یا وقتی مراعات نہیں چاہتے بلکہ وہ مساوی مواقع، میرٹ، قانون کی بالادستی، شفاف بھرتیوں اور بہتر مستقبل کے خواہاں ہیں۔ پاکستان کی سب سے بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، لیکن اگر انہیں تعلیم کے بعد باعزت روزگار، ہنر مندی اور کاروباری مواقع نہ ملیں تو سماجی بے چینی میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اس مسئلے کا حل محض امدادی اسکیمیں نہیں بلکہ ایسی معاشی پالیسی ہے جو نجی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، برآمدات، ٹیکنالوجی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ دے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر حکومت کے اہم ترین وزراء خود اعتراف کر رہے ہیں کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے، قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے، نوجوان مطمئن نہیں اور ریاست محض بحرانوں پر ردعمل دے رہی ہے، تو پھر یہ وقت رسمی بیانات کا نہیں بلکہ بنیادی اصلاحات کا ہے۔ نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنا، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، مضبوط بلدیاتی نظام، شفاف احتساب، میرٹ پر مبنی بھرتیاں، مالی نظم و ضبط اور مؤثر ادارہ جاتی اصلاحات ہی پاکستان کو موجودہ بحران سے نکالنے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔
ریاستیں صرف نعروں، اعلانات اور وقتی منصوبوں سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، منصفانہ نظامِ حکومت اور عوامی اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر حکومت واقعی یہ سمجھتی ہے کہ موجودہ نظام گر چکا ہے تو پھر اس اعتراف کے بعد سب سے پہلی ذمہ داری اسی حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اصلاحات کا آغاز اپنے دورِ اقتدار میں کرے، کیونکہ تاریخ صرف مسائل کی نشاندہی کرنے والوں کو نہیں بلکہ ان کا حل پیش کرنے والوں کو یاد رکھتی ہے۔


