غزہ (لارڈ میڈیا): حماس نے زیر غور امن معاہدے کے بارے میں کہا ہے کہ یہ ایک مکمل پیکیج ہے، جس پر پوری طرح عمل درآمد ضروری ہے۔ حماس کے رہنما ڈاکٹر غازی حمد نے بتایا کہ تنظیم نے ثالث ممالک اور فلسطینی دھڑوں کے ساتھ مشاورت کے بعد معاہدے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ان کے بقول معاہدہ ایک مربوط فریم ورک ہے، جس میں جنگ بندی، اسرائیلی فوج کا انخلا، اور انسانی امداد کی فراہمی شامل ہیں۔
حماس نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل معاہدے کی کسی شق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کا اثر حماس کی ذمہ داریوں پر بھی ہوگا۔ حماس نے اسلحہ اسرائیل کے حوالے نہ کرنے بلکہ اسے قومی کمیٹی کے تحت محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غازی حمد نے کہا کہ معاہدے میں اسلحہ حوالے کرنے کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔
حماس کے مطابق موجودہ معاہدہ تنظیم کے سیاسی مؤقف یا فلسطینی سرزمین کی واپسی کے قومی منصوبے سے دستبرداری کا اظہار نہیں کرتا۔ غزہ کی آئندہ انتظامیہ نہ سنبھالنے کا مطلب حماس کے کردار کے خاتمے کا اشارہ نہیں ہے۔
پہلے سے سامنے آنے والے امن معاہدے کے مسودے میں غزہ کی انتظامیہ ایک آزاد قومی کمیٹی کے سپرد کرنے، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی اور اسرائیلی فوج کے انخلا کی تجاویز شامل تھیں۔ فریقین کی منظوری کے 14 روز کے اندر معاہدے پر عمل درآمد شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔


