واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکا نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مالیاتی نیٹ ورک کو متاثر کرنے والی معلومات فراہم کرنے پر 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالر انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ریوارڈز فار جسٹس پروگرام کے مطابق یہ انعام ایسے شواہد یا معلومات کے لیے مختص ہے جو کیمیا پارٹ سیوان کمپنی کے مالیاتی اور سپلائی نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے میں مدد دیں۔
واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ یہ کمپنی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے لیے ڈرون تیار کرنے، ان کی آزمائش، تکنیکی معاونت اور پرزہ جات کی خریداری میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔
امریکا نے کمپنی کے 6 اعلیٰ عہدیداروں کے نام بھی جاری کیے ہیں اور الزام عائد کیا ہے کہ وہ عراق، یمن اور شام میں ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کو ڈرون فراہم کرنے میں ملوث رہے ہیں۔ ان افراد پر 2024 میں بھی امریکی پابندیاں عائد کی گئیں، جبکہ KIPAS کو 2021 میں امریکی انسداد دہشتگردی قوانین کے تحت بلیک لسٹ کیا گیا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق اس انعامی پروگرام کا مقصد گرفتاری نہیں بلکہ پاسدارانِ انقلاب کے مالیاتی اور سپلائی نیٹ ورکس کو متاثر کرنے والی معلومات حاصل کرنا ہے۔ دوسری جانب ایران ماضی میں امریکی الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے اور پاسدارانِ انقلاب پر عائد کیے گئے ایسے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتا ہے۔


