ہومتازہ ترینکھپت بدستور چین کی اقتصادی ترقی کے اہم محرک کے طور پر...

کھپت بدستور چین کی اقتصادی ترقی کے اہم محرک کے طور پر قائم ہے

بیجنگ (شِنہوا) شِنہوا نیوز ایجنسی کے آل میڈیا ٹاک شو "چائنہ اکنامک راؤنڈ ٹیبل” کے تازہ ترین پروگرام میں ماہرین نے کہا کہ کھپت بدستور چین کی اقتصادی ترقی کا اہم محرک بنی ہوئی ہے۔

قومی ترقی و اصلاحات کمیشن کے تحت قائم چینی اکیڈمی برائے میکرو اکنامک ریسرچ کے سربراہ ہوانگ ہان چھوان نے کہا کہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں صارفین کی منڈی مجموعی طور پر مستحکم رہی، خدمات کے شعبے میں کھپت میں تیزی سے اضافہ ہوا، کھپت کے ڈھانچے میں مسلسل بہتری آئی اور اس شعبے میں ترقی کے نئے عوامل بھی تیزی سے ابھرے۔

انہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران حتمی صارف اخراجات نے سرمایہ کاری اور خالص برآمدات کے مقابلے میں اقتصادی ترقی میں زیادہ حصہ ڈالا جو چین کی وسیع صارف منڈی کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔

قومی ادارہ شماریات کے عہدیدار وانگ گوان ہوا نے کہا کہ گھریلو اخراجات میں خدمات پر خرچ کرنے کا رجحان مزید نمایاں ہو گیا ہے اور خدمات پر ہونے والے اخراجات کا تناسب مسلسل بڑھ رہا ہے۔

وانگ نے بتایا کہ سال کی پہلی ششماہی میں خدمات کی پرچون فروخت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.3 فیصد اضافہ ہوا، جو اشیاء کی پرچون فروخت کے مقابلے میں 4.2 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔ ان کے مطابق سیاحت، مشاورتی خدمات، لیزنگ، ثقافتی سرگرمیوں، کھیلوں اور تفریحی شعبوں میں دو ہندسوں کی شرح سے ترقی برقرار رہی۔

وانگ گوان ہوا نے کہا کہ جذباتی اور تجرباتی نوعیت کی خریداری کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ سیاحت بدستور مقبول ہے جبکہ موسیقی کے بڑے پروگراموں، لائیو شوز اور کھیلوں کے مقابلوں کے ٹکٹ ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو جاتے ہیں۔ ان کے بقول یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ چینی خاندانوں میں خدمات پر خرچ کرنے کی صلاحیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں