صنعاء (لارڈ میڈیا): یمن کے حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں اہم آبی گزرگاہ باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر فیس عائد کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس سے قبل ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں سے فیس وصولی کا اعلان کیا تھا، جسے امریکا نے مسترد کر دیا تھا۔
رائٹرز کے مطابق، ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک ‘انصاراللہ’ باب المندب پر فیس عائد کرنے کی تجویز کا جائزہ لے رہی ہے، تاہم عمل درآمد کے لیے کوئی حتمی ٹائم فریم طے نہیں کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی رہنما ایرانی حکام کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت کے لیے تہران گئے تھے۔
دو مغربی سفارت کاروں کے مطابق، اگر حوثیوں نے اس منصوبے پر عمل کیا، تو اسے خلیجی اور یورپی ممالک کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یمنی حکومت کی وزیر خارجہ افراح الزوبہ نے کہا ہے کہ حوثی بحیرہ احمر پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے 2024 کی رپورٹ میں الزام عائد کیا تھا کہ حوثیوں نے بعض شپنگ ایجنسیوں سے محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کے عوض فیس وصول کی تھی۔


