لاہور (لارڈ میڈیا): لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں موسلادھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں جبکہ اہم شاہراہوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کی بارشوں کا نیا سسٹم شروع ہو چکا ہے جو 5 جولائی تک جاری رہے گا۔ لاہور میں رات گئے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے جس سے گرمی کی شدت میں کمی آئی ہے اور موسم خوشگوار ہو گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے پنجاب بھر میں بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔ لاہور میں ایم ڈی واسا کی ہدایت پر نکاسی آب کے لیے آپریشنل اسٹاف کو فوری طور پر شاہراہوں پر پہنچنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ لاہور میں اب تک سب سے زیادہ بارش مغل پورہ میں 44 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔
لاہور، راولپنڈی، گجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ مری، گلیات اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ ہے۔ لاہور ٹریفک پولیس نے شہریوں کو بارش کے دوران احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی ہے۔
گجرانوالہ شہر میں رات سے جاری طوفانی بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں اور انڈر پاسز میں پانی جمع ہونے کے سبب آمدورفت متاثر ہو رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نوید احمد کے مطابق گجرانوالہ میں اوسطاً 140 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے، جبکہ سب سے زیادہ بارش 171 ملی میٹر پیپلز کالونی میں ریکارڈ کی گئی ہے۔
سیالکوٹ میں بھی دو گھنٹے کی بارش نے شہر کے مختلف علاقوں کو ڈبو دیا ہے۔ تیز بارش سے پانی لوگوں کے گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا ہے جبکہ نکاسی کے لیے ضلع انتظامیہ کی مشینری کہیں نظر نہیں آ رہی۔


