روم (لارڈ میڈیا): اٹلی کی ساپینزا یونیورسٹی کی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات انسانی خون میں شامل ہو کر دل کی شریانوں تک پہنچ جاتے ہیں، جو ہارٹ اٹیک اور دیگر دل کے امراض کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ ذرات خوراک، پانی اور ہوا کے ذریعے جسم میں داخل ہو رہے ہیں۔
تحقیق کے دوران انجیو گرافی کروانے والے 6 افراد کے 3 گروپس بنائے گئے، جن میں ہارٹ اٹیک کے مریض، شریانوں کے سکڑاؤ کا شکار افراد اور صحت مند افراد شامل تھے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ہارٹ اٹیک کا سامنا کرنے والے 84 فیصد مریضوں کی شریانوں میں پلاسٹک کے ذرات موجود تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان ہر ہفتے ایک کریڈٹ کارڈ کے برابر پلاسٹک کھا رہا ہے، جو شریانوں کو بلاک کر کے فالج اور اچانک موت کا خطرہ بڑھا رہا ہے۔ اس میں پولی تھین پلاسٹک کی مقدار سب سے زیادہ پائی گئی۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فضائی آلودگی اور تمباکو نوشی بھی ان ذرات کے جمع ہونے میں معاون ہیں، جو انسانی صحت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
یہ تحقیق ماحولیاتی مسائل کو طبی خطرات میں تبدیل ہونے کی جانب اشارہ کرتی ہے، جس کے باعث پلاسٹک کے استعمال میں کمی اور فضائی آلودگی پر قابو پانا نہایت ضروری ہو گیا ہے۔


