کونمنگ (شِنہوا) حال ہی میں جرمنی کے "بولے چائنیز کوائر” کے 40 سے زائد اساتذہ اور طلبہ کو یون نان صوبے کے شہروں کونمنگ اور پوئر میں "گاتے ہوئے چینی زبان سیکھیں” کے عنوان سے 9 روزہ سمر کیمپ میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ اس سفر کے دوران انہوں نے موسیقی کے ذریعے چینی زبان کے لہجوں اور تال کی مشق کی، جبکہ چین کی متنوع ثقافت کے دلکش پہلوؤں سے بھی روشناس ہوئے۔
کوائر کے طلبہ نے یون نان یونیورسٹی میں مشہور چینی نغمے "جاسمین فلاور”، "دی سیم سانگ” اور "لان گنگ” سیکھے۔ اساتذہ اور چینی طلبہ کی رہنمائی میں انہوں نے اپنے تلفظ کو درست کیا، بار بار سروں اور تال کی مشق کی اور گائیکی کے ذریعے چینی زبان کی صوتی خوبصورتی کو محسوس کیا۔
کلاس روم سے باہر نکل کر طلبہ نے شی شان پہاڑی، کونمنگ کے گولڈن ٹیمپل سیاحتی مقام، یون نان صوبائی عجائب گھر اور گواندو قدیم قصبے سمیت کئی مشہور مقامات کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے یون نان کی منفرد ثقافت اور مقامی روایات کا قریب سے مشاہدہ کیا۔

جرمنی کے "بولے چائنیز کوائر” کے ارکان یون نان یونیورسٹی میں چینی نغمے سیکھ رہے ہیں۔(شِنہوا)
کونمنگ کے گولڈن ٹیمپل سیاحتی مقام میں واقع تائی حہ محل کے عقب میں موجود خواہشات کے درخت کے نیچے ہر جرمن طالب علم نے چینی گرہ سے مزین ایک سرخ کارڈ پر اپنی خواہش لکھی۔ جب وہ ان کارڈز کو درخت کی اونچی شاخوں پر لٹکانے کے لئے پنجوں کے بل کھڑے ہوئے تو ان کے چہروں پر خوشی کی روشن مسکراہٹیں بکھر گئیں۔
یون نان یونیورسٹی کے سکول آف ایجوکیشن کے منصوبہ جاتی گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک استاد، جنہوں نے طلبہ کے لئے خصوصی طور پر خواہشاتی کارڈز اور نسلی طرز کے کنگن تیار کئے تھے، نے کہا کہ "جرمنی میں بھی ایسی ہی روایات موجود ہیں، مثلاً خواہشات کے اظہار کے لئے محبت کے تالے لٹکائے جاتے ہیں۔ واضح ہے کہ طلبہ اس ثقافتی تجربے سے بہت لطف اندوز ہو رہے ہیں۔” انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس چھوٹی سی رسم کے ذریعے دونوں ممالک کے طلبہ مشترکہ ثقافتی قدروں کو دریافت کریں گے اور ایک دوسرے کے مزید قریب آئیں گے۔
جرمن بولے چائنیز کوائر کے ڈائریکٹر ژانگ یون گانگ نے کہا کہ "گائیکی کے ذریعے چینی زبان سیکھنا چین اور جرمنی کے درمیان ثقافتی تبادلوں کے لئے ایک نئی کھڑکی کھولتا ہے۔” 2014 میں قائم ہونے والے اس کوائر کا مقصد موسیقی کو ایک "سنہری چابی” کے طور پر استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ طلبہ کو چینی زبان اور ثقافت کی نئی دنیا سے روشناس کرانا ہے۔ اب تک یہ کوائر چین میں 15 سمر کیمپ منعقد کر چکا ہے، جن کے ذریعے بڑی تعداد میں جرمن نوجوان چین کا دورہ کر کے چینی ثقافت کو بہتر انداز میں سمجھ رہے ہیں۔
جرمن طالب علم جان ہیوبرگ دوسری مرتبہ بولے چائنیز کوائر کے سمر کیمپ میں شریک ہوئے ہیں۔ اس سال ان سمیت7طلبہ نے دوبارہ اس پروگرام میں حصہ لیا۔
جان ہیوبرگ نے کہا کہ "گزشتہ سال کی سرگرمیاں بہت شاندار تھیں۔ یہاں کا کھانا اور ثقافت مجھے بے حد پسند آئے، اسی لئے میں اس سال دوبارہ آیا ہوں۔” انہوں نے مستقبل کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اگلے سال ہائی سکول سے فارغ ہونے کے بعد چین آکر دندان سازی کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہاں طویل عرصہ رہ کر چین کو زیادہ حقیقی اور ہمہ جہت انداز میں جان سکیں۔
یون نان کے اس دورے کی ایک خاص بات "لان کانگ۔رائن یوتھ ایکسچینج پروگرام” کا آغاز تھا، جسے پہلی بار یون نان یونیورسٹی نے شروع کیا۔ اس پروگرام میں چینی طلبہ نے "ثقافتی سفیروں” کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے جرمن ساتھیوں کے ساتھ رہائش، کھانے اور تعلیم میں شرکت کی اور روزمرہ میل جول کے ذریعے ایک دوسرے کی ثقافتوں کو سمجھنے کا موقع حاصل کیا۔
پروگرام میں 2 خصوصی میسکوٹس بھی متعارف کرائی گئیں جن میں "یون یون” نامی شیر، جس میں جرمن ثقافت کے عناصر شامل ہیں، اور "پینا” نامی گلہری، جو یون نان یونیورسٹی کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کرداروں نے دونوں ممالک کے نوجوانوں کے درمیان تعلقات میں مزید گرم جوشی اور اپنائیت پیدا کی۔

یون نان یونیورسٹی میں جرمنی کے "بولے چائنیز کوائر” کے سمر کیمپ کی افتتاحی تقریب کا منظر۔ (شِنہوا)
یون نان یونیورسٹی کے سکول آف ایجوکیشن کی ڈین دوان لی بو نے کہا کہ "حقیقی تبادلہ یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو جانیں، سمجھیں اور اختلافات کا احترام کرتے ہوئے ایک دوسرے سے سیکھیں۔” انہوں نے امید ظاہر کی کہ چینی طلبہ اپنے جرمن ساتھیوں کے لئے حقیقی چین کو سمجھنے اور یون نان کے متنوع حسن کا تجربہ کرنے کی ایک پرجوش ذریعہ ثابت ہوں گے، تاکہ مختلف ثقافتی پس منظر رکھنے والے نوجوان باہمی روابط کے ذریعے ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور مضبوط دوستی قائم کر سکیں۔
دونوں ممالک کے نوجوان اجنبی سے دوست بن گئے اور بات چیت، تجربات کے تبادلے اور ایک دوسرے کو سننے کے ذریعے سرحدوں سے ماورا دوستی قائم کی۔ کونمنگ کی پھولوں کی مارکیٹ دونان میں چینی طالبہ شو ننگ اپنے جرمن دوستوں کے ساتھ شانہ بشانہ چلتی رہیں اور انہیں یون نان کے مختلف پھولوں، مقامی پھولوں کی صنعت اور ان سے وابستہ ثقافتی کہانیوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ایسی سرگرمیاں ہمیں بین الاقوامی دوستوں سے موثر انداز میں رابطہ کرنے کا عملی تجربہ فراہم کرتی ہیں۔”
نغموں کو رشتے اور چینی زبان کو پل بنا کر چینی اور جرمن نوجوانوں کے درمیان یہ ثقافتی مکالمہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ کونمنگ کے دورے کے بعد کوائر کے اساتذہ اور طلبہ پوئر جائیں گے، جہاں وہ مقامی چائے اور کافی کی ثقافت سے مزید آگاہ ہوں گے، فٹبال اور چیئر لیڈنگ کی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی نوجوان توانائی کا اظہار کریں گے اور یون نان گرینڈ تھیٹر فلہارمونک آرکسٹرا اور پوئر یوتھ کوائر کے ساتھ موسیقی کے ذریعے دوستی کا پیغام عام کریں گے۔


