کوئٹہ (لارڈ میڈیا): بلوچستان کے ضلع آوران میں ایک حاملہ خاتون کے اغوا، تشدد اور قتل کے واقعے نے شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔ اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) پر عائد کی گئی ہے۔
روبینہ نامی خاتون کو 20 اور 21 جولائی کی درمیانی شب ضلع آوران سے اغوا کیا گیا جبکہ ان کی مسخ شدہ لاش 25 جولائی کو کبری کور نالہ سے برآمد ہوئی۔
مقتولہ کے والد نے الزام عائد کیا کہ ان کی بیٹی کو اکبر ولد غنی نے بی ایل ایف کے ارکان کے ساتھ مل کر اغوا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے ان کی بیٹی کو کئی روز تک یرغمال رکھا، اس دوران اس پر تشدد کیا اور بعد ازاں اس کو قتل کرکے لاش پھینک دی۔
والد نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور بلوچستان کے عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش ہیں۔ خواتین کو نشانہ بنانا بلوچ معاشرتی روایات اور انسانی اقدار کے منافی ہے۔


