بشکیک: شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) میڈیا اور تھنک ٹینک سمٹ 2026 کے پلینری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) کے چین پاکستان اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طلعت شبیر نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تنزلی موجودہ دور کے سب سے بڑے غیر روایتی سکیورٹی چیلنجز ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، تاہم وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ ان کے مطابق 2022 کے تباہ کن سیلاب، شدید گرمی کی لہریں، ہمالیائی گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، پانی کی قلت اور بدلتے موسمی رجحانات پاکستان کی معیشت، خوراک کے تحفظ، بنیادی ڈھانچے اور انسانی ترقی کے لیے بڑے خطرات بن چکے ہیں۔
بشکیک میں موجود نمائندہ لارڈ میڈیا نیٹ ورک کے مطابق ڈاکٹر طلعت شبیر نے کہا، "پاکستان سمجھتا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ اور گرین ٹرانزیشن کو شنگھائی تعاون تنظیم کے علاقائی تعاون کا ایک بنیادی ستون بنایا جانا چاہیے۔”
انہوں نے کہا کہ چین نے گرین جدت، قابل تجدید توانائی اور پائیدار انفراسٹرکچر کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان صاف توانائی، ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی لچک کے شعبوں میں تعاون مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے پاس علاقائی گرین تعاون کا مؤثر پلیٹ فارم بننے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے کیونکہ تنظیم دنیا کی بڑی آبادی، توانائی کے وسائل، حیاتیاتی تنوع اور معیشت کی نمائندگی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا، "رکن ممالک کو قابل تجدید توانائی، گرین فنانس، توانائی کی بچت اور پائیدار انفراسٹرکچر میں تعاون کو مزید وسعت دینی چاہیے تاکہ علاقائی توانائی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔”
ڈاکٹر طلعت شبیر نے زور دیا کہ موسمیاتی موافقت، قدرتی آفات سے نمٹنے، ابتدائی وارننگ سسٹمز، تحقیقی تعاون اور عوامی آگاہی کے شعبوں میں بھی مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات، تھنک ٹینکس، تحقیقی ادارے اور میڈیا موسمیاتی آگاہی بڑھانے اور غلط معلومات کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا، "گرین ٹرانزیشن صرف ماحولیاتی ایجنڈا نہیں بلکہ پائیدار اقتصادی ترقی اور غربت میں کمی کا راستہ بھی ہے۔”
خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان شنگھائی اسپرٹ کی روشنی میں تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر پائیدار ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) میڈیا اور تھنک ٹینک سمٹ 2026 کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقد ہو رہی ہے، جس کا مرکزی موضوع "شنگھائی اسپرٹ کے نئے دور کی اہمیت: مشترکہ اقدار سے عملی تعاون تک” ہے۔ سمٹ میں میڈیا اداروں، تھنک ٹینکس اور پالیسی ساز اداروں کے نمائندے علاقائی تعاون، پائیدار ترقی، مصنوعی ذہانت، ذمہ دار صحافت، ماحولیاتی تحفظ اور عوامی رابطوں کے فروغ پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔


