اسلام آباد (لارڈ میڈیا): ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ العربیہ کے مطابق دونوں ممالک نے نئی تجاویز پر اپنے جوابات پاکستان اور قطر کو دیے ہیں۔ ان تجاویز کا مقصد مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنا اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ایران نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران پہلے آبنائے ہرمز، پھر منجمد اثاثوں اور جوہری پروگرام پر بات چیت کا خواہاں ہے، مگر نئی بحری راہداری کے قیام کو مسترد کرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکا کے سفیر مائیک والٹز نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف حملے عارضی طور پر روک دیے ہیں تاکہ سفارتی کوششوں کو موقع دیا جا سکے۔
پاکستان اور قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان 10 روزہ عارضی جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو سکے۔ اس تجویز کی شرائط میں حملے روکنا اور آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی کی بحالی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عمانی سمندری حدود میں جنوبی بحری راستہ ایرانی حملوں سے محفوظ ہوگا جبکہ ایرانی سمندری حدود میں امریکی بحری ناکہ بندی نہیں ہوگی۔
دیگر تجاویز میں ایران کو بحری سلامتی کی خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کی اجازت اور جہازوں سے وصول کی جانے والی فیس کو مشترکہ فنڈ میں جمع کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جس کی نگرانی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کرے گی۔


