واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکا نے ایران پر نئے حملے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج کو ایران پر حملے نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ فیصلہ عمانی وفد کی تہران میں موجودگی کے دوران کیا گیا، جو آبنائے ہرمز کے مسئلے پر مذاکرات کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے گزشتہ 13 روز کے دوران ایران پر حملوں کی منظوری دی تھی، لیکن جمعہ کو انہوں نے تازہ حملے روک دیے۔ امریکی میڈیا نے کہا کہ یہ اقدام تہران کو مذاکرات کا ایک اور موقع دینے کے لیے کیا گیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ٹرانزٹ کے طریقہ کار کا تعین ایران کا حق ہے اور امریکا کو کسی بھی نئے راستے کے لیے مشاورت کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، لیکن بنیادی اختلافات اور باہمی عدم اعتماد کی وجہ سے مذاکرات میں نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔
امریکی صدر نے بھی ایران کے ساتھ مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکام امریکا سے رابطے میں ہیں اور معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران کا مؤقف سننے کے لیے تیار ہیں۔
آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے حوالے سے ایران کا مؤقف ہے کہ جہازوں کو اس کی مقرر کردہ گزرگاہوں اور قواعد پر عمل کرنا ہوگا، جبکہ امریکا کہتا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں۔


