نئی دہلی (لارڈ میڈیا): بھارتی سوشل ایکٹیوسٹ و انجینئر سونم وانگچک نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھوک ہڑتال تب ہی ختم کریں گے جب احتجاج میں شریک طلبہ کے خلاف کسی قانونی یا انتقامی کارروائی نہ ہو۔ سونم وانگچک نے وفاقی وزرا جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کے نام لکھے گئے خط میں ان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات پر غور کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انہوں نے نیٹ امتحان کے پرچہ لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے اور تعلیمی نظام پر بامعنی بحث کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وانگچک کا کہنا تھا کہ وہ بھی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر کے دوبارہ طلبہ اور تعلیم کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں، تاہم وہ ان نوجوانوں کی قیمت پر ایسا نہیں کر سکتے جن کے لیے یہ تحریک شروع کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت واضح یقین دہانی کرائے کہ احتجاج میں شریک کسی بھی طالب علم کے خلاف قانونی یا انتقامی کارروائی نہیں ہو گی تو وہ فوراً اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے، بصورت دیگر ان کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔


