اسلام آباد (لارڈ میڈیا): عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو ‘بی مائنس’ (B-) سے بڑھا کر ‘بی’ (B) کر دیا ہے جبکہ ملک کا آؤٹ لک ‘اسٹیبل’ برقرار رکھا گیا ہے۔ یہ فیصلہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات پر مؤثر عملدرآمد، ادارہ جاتی استحکام میں بہتری اور معاشی اشاریوں میں مثبت پیش رفت کے باعث کیا گیا۔
ایجنسی کے مطابق حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ میں توسیع کی کوششوں سے محصولات میں اضافہ ہوا ہے، مالیاتی خسارے میں کمی آئی ہے، اور قرضوں کے بوجھ میں بتدریج کمی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی معاونت سے کی جانے والی اصلاحات نے معاشی استحکام بحال کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنے اور مالیاتی و بیرونی شعبے پر دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ایس اینڈ پی گلوبل نے کہا کہ سرکاری ذرائع سے مسلسل مالی معاونت آئندہ 12 ماہ کے دوران پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مدد دے گی۔ اسی لیے ملک کا آؤٹ لک ‘اسٹیبل’ برقرار رکھا گیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، پاکستان امریکا سے 10 ارب ڈالر کی مجوزہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔ اگر اس سہولت کی منظوری ملتی ہے تو زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، روپے پر دباؤ میں کمی اور کثیرالجہتی مالیاتی اداروں پر انحصار کم ہونے کی توقع ہے۔


