اسلام آباد (لارڈ میڈیا) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعجاز چوہدری نے اپنی سزا معطلی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے 28 اپریل کے فیصلے کو چیلنج کر دیا ہے۔ ان کی درخواست میں ٹرائل کورٹ کے 11 اگست 2025 کے فیصلے کو بھی معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا کوئی سابقہ فوجداری ریکارڈ نہیں ہے اور مقدمے میں ان کا نام بعد میں شامل کیا گیا۔ ان کے مطابق پراسیکیوشن کا پورا مقدمہ زمان پارک میں ہونے والی مبینہ ملاقاتوں اور سازش کے الزام پر مبنی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ کے دونوں گواہان سرکاری ملازمین ہیں، جبکہ لاہور ہائیکورٹ اسی مقدمے میں نامزد ایک دوسرے ملزم کی سزا پہلے ہی معطل کر چکی ہے، لہٰذا درخواست گزار بھی اسی نوعیت کے ریلیف کا حقدار ہے۔
اعجاز چوہدری نے مزید مؤقف اپنایا ہے کہ انہیں اسی واقعے کے حوالے سے سرور روڈ لاہور میں درج ایک دوسرے مقدمے میں بھی سزا سنائی جا چکی ہے، جبکہ ایک ہی وقوعہ پر دو الگ مقدمات میں کارروائی قانون کے منافی ہے۔ شادمان تھانے میں درج مقدمے میں سنائی گئی سزا کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے۔


