ہومتازہ ترین2026 میں 49 لاکھ افغان ماؤں ، بچوں کو غذائی قلت...

2026 میں 49 لاکھ افغان ماؤں ، بچوں کو غذائی قلت کا شدید خطرہ لاحق ہے،اقوام متحدہ کا انتباہ

کابل(شِنہوا) افغانستان میں اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور(او سی ایچ اے) نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں رواں سال تقریباً 50 لاکھ ماؤں اور بچوں کو فوری غذائی معاونت کی ضرورت ہوگی جو جنگ سے متاثرہ ملک میں گہرے ہوتے انسانی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔

او سی ایچ اے کے افغانستان دفتر نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کہاہےکہ افغانستان میں لاکھوں ماؤں کے لیے غذائی قلت کے خطرے کے باوجود امید کا دامن تھامے رکھنا ہی زندگی کا سہارا ہے۔

ادارے نے زور دیا کہ بروقت انسانی امدادی اقدامات اب بھی جانیں بچا سکتے ہیں اور ایسے طویل المدتی نقصانات کو روک سکتے ہیں جو برسوں سے بحران کا شکار ایک پوری نسل کو متاثر کر سکتے ہیں۔

یہ انتباہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال کی جانب سے چند روز قبل جاری ہونےوالے اسی نوعیت کے خدشات کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ5 سال سے کم عمر کے 37 لاکھ بچے شدید اور جان لیوا غذائی قلت کے بڑھتے ہوئےشدید خطرے سے دوچار ہیں۔

افغانستان بدستور دنیا کے سب سے بڑے انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے جس کی بنیادی وجوہات معاشی زوال، موسمیاتی جھٹکے اور بنیادی خدمات تک محدود رسائی ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں