قاہرہ (شِنہوا) مصری ماہرین نے قاہرہ میں منعقدہ ایک سیمینار میں کہا ہے کہ چین کی جانب سے پیش کردہ عالمی انیشی ایٹوز کثیرالجہتی تعاون، ترقی پذیر ممالک کی بہتر نمائندگی اور زیادہ منصفانہ و مساوی عالمی نظام کی جانب رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
قاہرہ میں قائم تھنک ٹینک گلوبل فورم فار فیوچر اسٹڈیز کے زیر اہتمام ہونے والے اس سیمینار میں چین کے ریاستی کونسل کے اطلاعاتی دفتر کی جانب سے 17 جون کو جاری کردہ وائٹ پیپر ” زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی گورننس، چین کے اصول، تجاویز اور اقدامات” کی روشنی میں گلوبل گورننس انیشی ایٹو(جی جی آئی) کا جائزہ لیا گیا۔
وائٹ پیپر میں مشترکہ کوششوں کے ذریعے زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی نظم ونسق کا نظام قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
مے یونیورسٹی میں سیاسیات کی پروفیسر اور مصری کونسل برائے خارجہ امور کی رکن سمر ابراہیم نے کہا کہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو ایک ایسا ادارہ جاتی لائحہ عمل ہے جو چین کےچار بڑی عالمی انیشی ایٹوز گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (جی ڈی آئی)، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو (جی ایس آئی)، گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو (جی سی آئی) اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو کو یکجا کرتا ہے۔
سمر ابراہیم نے کہا کہ چین نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مختلف عالمی اقدامات کے ذریعے عالمی نظم ونسق کے حوالے سے اپنی سوچ کو بتدریج وسعت دی ہے۔
سمر ابراہیم کے مطابق چین نے 2021 میں ترقیاتی مسائل سے نمٹنے کے لئے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو پیش کیا، 2022 میں مشترکہ سلامتی کے فروغ کے لئے گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو اور 2023 میں تہذیبوں کے درمیان مکالمے کے فروغ کے لئے گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو متعارف کرایا جبکہ گزشتہ سال پیش کردہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو ان تمام اقدامات کی بنیاد پر بین الاقوامی نظم ونسق کے نظام کو مزید موثر بنانے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کا یہ تصور حقیقی کثیرالجہتی، ریاستی خودمختاری کے احترام، مساوات، وسیع مشاورت، مشترکہ فوائد اور مشترکہ ترقی پر مبنی ہے جس کا مقصد انسانیت کے مشترکہ مستقبل پر مبنی برادری کی تشکیل ہے۔
الاہرام سینٹر برائے پولیٹیکل اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز کی محقق مرام ضیاء نے کہا کہ دنیا اس وقت بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، تحفظ پسندی، تجارت اور ٹیکنالوجی کے تنازعات اور عالم شمال و عالم جنوب کے درمیان بڑھتے ہوئے ترقیاتی فرق جیسے مسائل سے دوچار ہے۔
مرام ضیاءنے کہا کہ ان عالمی نظم ونسق کے مسائل سے نمٹنے کے لئے گلوبل گورننس انیشی ایٹو ایک مساوی اور منظم کثیر سمتی دنیا کی تشکیل کی حمایت کرتا ہے تاکہ بین الاقوامی نظام میں اصلاحات کو زیادہ جامع، وسیع اور سب کے لئے فائدہ مند عالمگیریت کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔
تقریب کے دوران بدر یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کی تدریسی معاون جُمانہ نظمی نے کہا کہ چین کے یہ چاروں عالمی انیشی ایٹوز ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور ایک مربوط اسٹریٹجک لائحہ عمل تشکیل دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترقی انسانی پیش رفت کی بنیاد، سلامتی امن کی پیشگی شرط، تہذیبوں کے درمیان مکالمہ باہمی افہام و تفہیم کا ذریعہ جبکہ عالمی نظم ونسق ایک منصفانہ اور پائیدار نظام کا ضامن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین کے ان انیشی ایٹوز کا اسٹریٹجک انضمام اکیسویں صدی میں بین الاقوامی تعاون کے لئے ایک جامع لائحہ عمل فراہم کرتا ہے جو یکطرفہ طرزِ عمل کے بجائے مکالمے اور اجتماعی اقدامات کو ترجیح دیتا ہے۔


