بوسان، جنوبی کوریا (شِنہوا) یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کا 48 واں اجلاس جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں شروع ہو گیا۔ اس اجلاس میں تقریباً 3 ہزار شرکاء نئے عالمی ورثہ مقامات کی نامزدگیوں پر غور اور ثقافتی و قدرتی ورثے کے مقامات کے تحفظ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل خالد العنانی نے کہا کہ عالمی ورثہ نہ صرف ماضی کی میراث ہے بلکہ حال کے لئے بھی تحریک کا ایک زندہ ذریعہ ہے۔ انہوں نے اس اجلاس کو اتحاد کا ایک اہم موقع قرار دیتے ہوئے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور انسانیت کے مشترکہ ورثے کے تحفظ کے لئے مل کر کام کریں۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ عالمی ورثہ قومی سرحدوں اور نسلوں سے بالاتر ہے، جو انسانیت کی مشترکہ اقدار کی علامت اور پرامن بین الاقوامی تعاون کی بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے تنازعات اور تقسیم کے اس دور میں ثقافتی مکالمہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
اجلاس کے دوران عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کرنے کے لئے 30 نئی نامزدگیوں، پہلے سے شامل 3 مقامات میں مجوزہ تبدیلیوں اور فہرست میں موجود 147 مقامات کے تحفظ کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
نئی نامزدگیوں کا جائزہ لینے کے علاوہ رکن ممالک کے مندوبین، مبصر تنظیموں، غیر سرکاری تنظیموں اور تعلیمی اداروں کے نمائندے عالمی ورثہ مقامات کے تحفظ اور انتظام، نیز عالمی ثقافتی ورثہ کنونشن پر عملدرآمد سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
اس وقت دنیا بھر میں یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں ایک ہزار 248 مقامات شامل ہیں، جن میں 972 ثقافتی، 235 قدرتی اور 41 مشترکہ ورثے کے مقامات شامل ہیں۔


