پشاور (لارڈ میڈیا): احتساب عدالت پشاور نے سرکاری ادویات اسکینڈل میں گرفتار ڈاکٹر محمد اسلام کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی ہے۔ احتساب جج محمد محمد ظفر نے دائر درخواست کی سماعت کی۔
نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں دلائل دیے کہ ملزم محمد اسلام، جو کارڈیک ٹیکنیشن ہیں، نجی فارماسیوٹیکل کمپنی کے ذریعے ادویات اسکینڈل میں ملوث ہوئے تھے۔ ملزم نے دیگر ملزمان کے ساتھ ملی بھگت سے 220.7 ملین روپے کے ادویات سپلائی آرڈرز جاری کیے۔
پراسیکیوٹر نے مزید بتایا کہ 220.7 ملین روپے میں سے 157 ملین روپے ملزم کے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے، جبکہ 40 ملین روپے کی ٹرانزیکشن ڈی ایچ او لوئر دیر کے دفتر سے بھی ہوئی۔ یہ رقم ڈی ایچ کیو ہسپتال تیمرگرہ میں ادویات کی فراہمی کے لیے منتقل کی گئی تھی۔
عدالت نے دونوں جانب سے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ملزم ڈاکٹر اسلام کی درخواست خارج کر دی۔ دوسری جانب، سابق ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر شوکت نے بھی ضمانت کی درخواست دائر کر دی ہے، جس پر سماعت 27 جولائی کو مقرر کی گئی ہے۔


